"دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں"وزیراعظم کی نیوزی لینڈ میں دہشتگردی کی مذمت

اسلام آباد(پبلک نیوز) وزیراعظم عمران خان نے نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں انتہا پسند دہشت گردوں کی جانب سے مساجد کو نشانہ بنائے جانے کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ یہ حملہ ہمارے اس مؤقف کی تصدیق کرتا ہے جسے ہم مسلسل دہراتے آئے ہیں کہ"دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں"۔

 

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وزیراعظم عمران خان نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ مغرب میں اسلامو فوبیا چند برس کی بات نہیں، اسلاموفوبیا کی جڑیں کئی دہائیوں تک پھیلی ہیں لیکن نائن الیون کے بعد مغربی معاشروں میں یہ رجحان خوفناک حد تک بڑھ گیا۔ وزیراعظم عمران خان نے نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں انتہا پسند دہشتگردوں کی جانب سے مساجد کو نشانہ بنائے جانے کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اپنے ٹوئٹ میں اسلامو فوبیا کا حوالہ دیا۔

 

وزیراعطم نے ٹوئٹ میں کہا کہ مسجد پر دہشت گرد حملہ نہایت تکلیف دہ اور قابل مذمت ہے، یہ حملہ ہمارے اس مؤقف کی تصدیق کرتا ہے جسے ہم مسلسل دہراتے آئے ہیں کہ "دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں"۔ ہماری ہمدردیاں اور دعائیں متاثرین اور ان کے اہل خانہ کیساتھ ہیں۔ اس کےساتھ ہی وزیراعظم نے یاد دلایا کہ ان بڑھتے ہوئے حملوں کے پیچھے 9/11 کے بعد تیزی سے پھیلنے والا "اسلامو فوبیا" کارفرما ہے، جس کے تحت دہشت گردی کی ہر واردات کی ذمہ داری مجموعی طور پر اسلام اور سوا ارب مسلمانوں کے سر تھوپنے کا سلسلہ جاری رہا۔

 

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کی جائز سیاسی جدوجہد کو نقصان پہنچانے کیلئے بھی یہ حربہ آزمایا گیا۔ وزیراعظم نے اپنے مذمتی ٹوئٹ میں بلکل صحیح نشاندہی کہ مغرب میں ہونے والی دہشت گردی کے پیچھے اسلاموفوبیا ہے جو نائن الیون کے بعد سے مغرب میں اپنی جڑیں پھیلا چکا ہے، یہی وجہ ہے کہ سیون الیون کے بعد برطانیہ میں مسلمانوں کو نسل پرستی پر مبنی انتہا پسندوں کا سامنا کرنا پڑا اور ناروے جیسے پر امن ملک میں بھی ایک انتہا پسند نے ستر سے زیادہ بیگناہوں کی جان لے لی اور عدالتی کارروائی کے دوران بھی اس نے اپنے روئیے پر ندامت ظاہر نہیں کی۔

عطاء سبحانی  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں