ایران اور سعودی عرب کے درمیان ثالثی کا اقدام پاکستان نے خود اٹھایا: وزیراعظم


تہران(پبلک نیوز) وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ ایران ہمارا پڑوسی ملک ہے، مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے لیے ایران کی حمایت پرشکر گزار ہیں جبکہ سعودی عرب نے ہرضرورت پر ہماری مدد کی ہے۔

 

ایران اور سعودی عرب میں مصالحت کرانے کا عزم لیے وزیراعظم عمران خان تہران پہنچے۔ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے ائیرپورٹ پر استقبال کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے ایرانی صدر حسن روحانی سے ملاقات کی۔ وفود کی سطح پر بات چیت ہوئی۔ تہران میں ایرانی صدر سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعطم نے کہا کہ ہم خطے میں ایک اور تنازع نہیں چاہتے، ایران اور سعودی عرب میں جنگ نہیں چاہتے۔ ایران ہمارا پڑوسی جب کہ سعودی عرب نے ہر ضرورت پر ہماری مدد کی ہے۔ دو برادر ملکوں کے درمیان سہولت کاری کرنا چاہتے ہیں۔

 

ایران اور سعودی عرب کے درمیان ثالثی کا اقدام پاکستان نے خود اٹھایا ہے کسی نے نہیں کہا۔ وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ نے نیویارک میں ایران امریکا ڈائیلاگ میں سہولت کی خواہش کا اظہار کیا۔ اس معاملے پر تفصیل سے بات ہوئی۔ معلوم ہے اس میں مشکلات ہیں لیکن جو ہو سکا کریں گے۔ مقبوضہ کشمیر کی بات بھی کی، بھارت نے 80 لاکھ کشمیریوں کو قید کر رکھا ہے، مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے ایران کی حمایت پر شکر گزار ہیں۔

 

یرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ پاکستان اور ایران پڑوسی دوست ممالک ہیں اور دونوں ممالک مل کر خطے کے استحکام کے لئے کوششیں کر سکتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کے ساتھ حالیہ واقعات خصوصاً خلیج فارس اور دیگر معاملات پر بات کی۔۔ ایران کے خلاف امریکا کے جابرانہ اقدامات پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ خیرسگالی جذبے کے جواب میں خیرسگالی کا مظاہرہ کیا جائے گا۔ اگر کوئی ملک سمجھتا ہے خطے میں عدم استحکام کے بدلے کوئی کارروائی نہیں ہو گی تو وہ غلطی پر ہے۔ یمن میں فورا جنگ بندی اور عوام کی مدد کی جائے، امریکا کو چاہیے کہ ایران پرعائد پابندیاں اٹھائے۔

 

عطاء سبحانی  4 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں