تنازعات کے خاتمے کیلئے شنگھائی تعاون تنظیم کو کردار ادا کرنا ہو گا: وزیراعظم

بشکیک(پبلک نیوز) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں متحرک افرادی قوت موجود ہے۔ پاکستان دہشت گردی کی تمام اقسام اور اشکال کی مذمت کرتا ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس کی میزبانی پر وزیراعظم عمران خان کی کرغزستان حکومت کو مبارک باد۔

 


وزیراعظم عمران خان کا بشکیک میں شنگھائی تعاون کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان کے شنگھائی تنظیم کے رکن ممالک کیساتھ تاریخی تعلقات ہیں۔ پاکستان انسداد دہشت گردی کا تجربہ رکن ممالک کیساتھ شئیر کرنے کیلئے تیار ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کی انسداد دہشت گردی کیلئے کوششوں میں پوری طرح شریک رہیں گے، اب حتمی طور پر یہ احساس جاگزیں ہو چکا ہے کہ افغانستان کے مسئلے کا عسکری حل نہیں، پاکستان دہشتگردی کی تمام اقسام اور اشکال کی مذمت کرتا ہے۔ پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جنہوں نے دہشت گردی کیخلاف جنگ کا پانسہ پلٹا۔

وزیراعظم نے عدم برداشت اور اسلاموفوبیا خطرہ قرار دے دیا، وزیراعظم عمران خان نے خطاب میں کہا کہ کرغزستان کی حکومت اور عوام کا شکر گزار ہوں، یقین ہے تنظیم کے مستقبل کا سفر جاری رہے گا۔ پاکستان سرمایہ کاروں کے لیے ایک پرکشش ملک ہے۔ سی پیک کے دوسرے مرحلے کا آغاز کر دیا۔ پاکستان میں متحرک افرادی قوت موجود ہے، ہماری خارجہ پالیسی تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات پر مشتمل ہے۔ تنازعات کے خاتمے کے لیے تنظیم کو کردار ادا کرنا ہو گا، پہلی بار ایشیاء عالمی تجارت اور روابط کا محور بن رہا ہے۔

 

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف کامیابیاں حاصل کیں، ایشیاء کے بنیادی تنازعات حل کیے بغیر ترقی کا سفر ممکن نہیں، پاکستان کے سکیورٹی اداروں نے دہشت گردی کے خلاف قربانیاں دیں۔ کرپشن کے خاتمے کے لیے فریم ورک بنانا ہو گا۔ غربت کے خاتمے کے لیے چین کے تجربے سے استفادہ کرنا چاہئے۔ ممالک کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیےعملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ وائٹ کالر کرائم کے خاتمے کے لیے رکن ممالک کو اقدامات کرنے چاہئے۔ وزیراعظم عمران خان نے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس کی میزبانی پر کرغزستان حکومت کو مبارک باد پیش کی۔ وزیراعظم نے کرغزستان کو قدرتی خوبصورتی اور ثقافت کی بدولت تنظیم کا موتی قرار دے دیا۔

عطاء سبحانی  3 ماه پہلے

متعلقہ خبریں