وزیر اعظم کا وانا کیلئے 2 ڈگری کالج، اسپورٹس کمپلیکس اور ہیلتھ کارڈ کا اعلان

جنوبی وزیرستان (پبلک نیوز) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پہلا سیاست دان تھا جس نے قبائلی علاقوں میں فوج بھیجنےکی مخالفت کی۔ قبائلی لوگ ہمیشہ پاکستانی فوج کے ساتھ کھڑے رہے۔ اقبال کا خواب تھا مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر پاکستان بنے۔ مدینہ کی ریاست میں سب سے اہم اصول عدل اور انصاف تھا۔ یقین دلاتا ہوں میرے ہوتے ہوئے آپ کے ساتھ انصاف ہوگا۔

 

جنوبی وزیرستان کے علاقے سپین کئی راغزئی میں قبائلی عمائدین سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ وانا کے نوجوانوں کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ شاندار استقبال پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔ وزیرستان اور قبائلی علاقے میں 30 سال پہلے آیا۔ یہاں آنے سے پہلے نہیں جانتا تھا پختونخوا اور قبائلی علاقے میں کیا فرق ہے۔ قبائل کی تاریخ اور روایات پر کتاب لکھنا چاہتا ہوں۔ واحد وزیراعظم ہوں جسے قبائلی علاقوں کا صحیح علم ہے۔ قبائلی علاقوں سے لوگ کشمیر میں جہاد کرنے گئے۔

 

 1965 کی جنگ میں قبائلی لشکر لڑنے گئے۔ پہلا سیاست دان تھا جس نے قبائلی علاقوں میں فوج بھیجنےکی مخالفت کی۔ قبائلی لوگ ہمیشہ پاکستانی فوج کے ساتھ کھڑے رہے۔ اقبال کا خواب تھا مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر پاکستان بنے۔ مدینہ کی ریاست میں سب سے اہم اصول عدل اور انصاف تھا۔ یقین دلاتا ہوں میرے ہوتے ہوئے آپ کے ساتھ انصاف ہوگا۔ یہاں سے پیسہ چوری کر کے منی لانڈرنگ کی گئی۔ میرا اقتدار میں آنے کا مقصد صرف ان کرپٹ عناصر کو شکست دینا تھا۔

نوجوانوں کے لیے انصاف روزگار کےتحت آسان قرضےدیےجائینگے۔ وانا میں گرڈاسٹیشن بہتر کریں گے، دور دراز گاؤں میں سولر سسٹم لے کر آئینگے۔ ہیلتھ کارڈ پر ملک کے کسی بھی اسپتال میں 7 لاکھ 20 ہزار روپے تک خرچ کیے جاسکیں گے۔ وزیرستان میں سب کو ہیلتھ کارڈ دیا جائیگا۔ وانا میں بچیوں اور بچوں کے لیے ڈگری کالج، اسپورٹس کمپلیکس بنانا ہے۔ قبائلی علاقوں میں اب ترقی ہوگی ، تعلیم پر پیسا خرچ کیا جائے گا۔ ابھی ہمارے پاس پیسا نہیں، جیسے جیسے پیسا آتا جائیگا، آپ پر زیادہ پیسا خرچ کریں گے۔

 

نائن الیون سے پہلے قبائلی علاقے پرامن علاقے تھا، یہاں شاید ہی کہیں جرم ہوتا تھا۔ قبائلی علاقوں میں جرگہ سسٹم تھا جہاں فوری انصاف ملتا تھا۔ قبائلی علاقوں میں بہترین بلدیاتی نظام اور جرگہ سسٹم صدیوں سے لوگوں کو انصاف دیتا رہا ہے۔ پولیس تھانوں میں جرگہ سسٹم لے کر آر ہے ہیں جہاں فوری اور مفت انصاف مل سکے۔ جرگہ سسٹم خیبرپختونخوا میں بڑا کامیاب رہا۔

 

یہاں کچھ عناصر لوگوں کو انتشار کی طرف لے کر جائیں گے۔ ان کے کچھ لیڈر ہیں جن کو باہر سے پیسا آرہا ہے۔ ان کے کچھ لیڈروں کو کرپشن کا پیسا بچانے والے سپورٹ کر رہے ہیں۔ میں نہیں چاہتا کہ قبائلی علاقوں میں انتشار ہو۔ مجھے علم ہے آپ کی دشمنی پھر 100 سال تک ختم نہیں ہوتی، اس لیے نہیں چاہتا کہ انتشار ہو۔ مجھے ایک ہفتہ دیں سب سے مشاورت کر کے آپ کو ضلع کا اعلان کردوں گا۔

حارث افضل  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں