بھارتی اقدام سے کشمیر کی تحریک مزید شدت اختیار کرے گی، وزیراعظم عمران خان

 

اسلام آباد (پبلک نیوز) وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کہا ہے کہ اس اجلاس سے دنیا کو پیغام جانا چاہیے کہ ساری قوم اکٹھی ہے۔ بھارت ہماری امن کی کوششوں کو کمزوری سمجھ رہا تھا۔ بھارت کی سرد مہری کے باعث امریکا کو ثالثی کا کہا۔ بھارتی اقدام سے کشمیر کی تحریک مزید شدت اختیار کرے گی۔ اگر عالمی دنیا نے کچھ نہ کیا تو حالات سنجیدہ ہوں گے۔

 

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہمیں آج کے مشترکہ اجلاس کی اہمیت کا اندازہ نہیں۔ اس اجلاس کو کشمیری سمیت پوری دنیا دیکھ رہی ہے۔ اجلاس سے دنیا کو پیغام جانا چاہیے کہ ساری قوم اکٹھی ہے۔ بھارت نے جو فیصلہ کیا اس کے اثرات پوری دنیا پر ہوں گے۔ دورہ امریکا کا مقصد بھی ماضی کے مسائل کو ختم کرنا تھا۔ حکومت آئی تو کوشش تھی کہ پاکستان سے غربت کا خاتمہ کریں۔ اسی مقصد کے لیے ہمسائیوں سے بہتر تعلقات چاہتے ہیں۔

 

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ بھارت کا پلواما واقعے کا مقصد الیکشن میں کامیابی حاصل کرنا تھا۔ بھارت ہماری امن کی کوششوں کو کمزوری سمجھ رہا تھا۔ آرٹیکل 370 ختم کرنا بی جے پی کے انتخابی منشور کا حصہ تھا۔ قائداعظم محمد علی جناح ہندو مسلم اتحاد کے سفیر سمجھے جاتے تھے۔ کیا وجہ تھی کہ قائداعظم کو پاکستان بنانے کا فیصلہ کرنا پڑا۔ قائداعظم جانتے تھے کہ انگریزوں کی غلامی کے بعد ہندوؤں کی غلامی کرنا پڑے گی۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ قائداعظم انگریزوں سے آزادی حاصل کرنا چاہتے تھے۔ قائداعظم کومتعصبانہ رویے کی  وجہ سے علیحدہ ملک بنانا پڑا۔ مودی کا نظریہ آر ایس ایس کے اوپر ہے۔ جو دو قومی نظریے کو نہیں مانتے تھے آج تسلیم کر رہے ہیں۔ بھارت میں مسلمان کو برابر کا شہری نہیں سمجھا جاتا۔ بھارت کی سرد مہری کے باعث امریکا کو ثالثی کا کہا۔

 

 

وزیراعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ بھارتی اقدام سے کشمیر کی تحریک مزید شدت اختیار کرے گی۔ قائداعظم ایسا معاشرہ چاہتے تھے جہاں سب آزاد ہوں۔ سب جانتے ہیں پلواما واقعے سے پاکستان کا کوئی عمل دخل نہیں۔ بھارت اب کشمیریوں کو اقلیت میں بدلنے کی کوشش کرے گا۔ اگر 26 فروری کو پاکستان میں ہلاکتیں ہوتی تو پاکستان نے بھی ٹارگٹ کر رکھے تھے۔

 

عمران خان کا کہنا تھا کہ بھارت کشمیریوں کی مزاحمتی تحریک کو دبانے کی کوشش کرے گا۔ بھارت نے اگر کوئی مہم جوئی کی پاکستان اس کو بھرپور جواب دے گا۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ بھارت ہم  پر حملہ کرے تو ہم جواب نہ دیں۔ موجودہ حالات میں روایتی جنگ کی طرف جا سکتے ہیں۔

 

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر بھارت میں کشمیر میں کچھ کیا تو پلواما جیسا رد عمل آسکتا ہے۔ صورتحال بگڑ گئی تو سب کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ کشمیر پاکستان ہی نہیں پوری دنیا کی آواز بن چکا ہے۔ اگر عالمی دنیا نے کچھ نہ کیا تو حالات سنجیدہ ہوں گے۔

احمد علی کیف  4 ماه پہلے

متعلقہ خبریں