افغان طالبان مجھ سے ملاقات کرنا چاہتے تھے لیکن کابل حکومت نے روک دیا: وزیراعظم

اسلام آباد (پبلک نیوز) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افغان مسئلے کا حل صرف فوری عبوری حکومت کا قیام ہے۔ افغان طالبان مجھ سے ملاقات کرنا چاہتے تھے لیکن کابل حکومت نے روک دیا۔ افغان عوام کو خود فیصلے کا اختیار دینا چاہیے۔

 

وزیراعظم عمران خان کا سینئیر صحافیوں سے گفتگو میں کہنا تھا کہ افغان مسئلے کا حل صرف فوری عبوری حکومت کا قیام ہے۔ افغان طالبان مجھ سے ملاقات کرنا چاہتے تھے لیکن کابل حکومت نے روک دیا۔ افغان عوام کو خود فیصلے کا اختیار دینا چاہیے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان امریکہ اور افغان طالبان کے مذاکرات کی کامیابی چاہتا ہے۔ پنجاب اور کے پی کے وزراہ اعلیٰ کی کارکردگی سے مطمئن ہوں۔

 

عمران خان کا کہنا تھا کہ دونوں وزرائے اعلیٰ کو اور مجھے ورثے میں صرف بحران ملے۔ کچھ کھلاڑی کمزور بھی ہوتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں بدل دوں۔ کابینہ کے اتنے اجلاس ہوئے، حیران ہوں نواز شریف کابینہ کے بغیر کیسے حکومت چلا رہے تھے۔ اپوزیشن اپنی چوری بچانے کے لیے این آر او چاہتی ہے۔

 

ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن احتجاج اور مارچ کا شوق پورا کر لے۔ نہ عوام اپوزیشن کے ساتھ ہیں اور نہ مجھے کوئی خوف ہے۔ اپوزیشن کو ڈی چوک میں کنٹینر دینے کے لیے تیار ہیں۔ دیکھیں گے کہ اپوزیشن ڈی چوک میں کتنے دن نکالتی ہے۔ تمام اپوزیشن اپنی چوری بچانے کے لیے بلیک میلنگ کر رہی ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف 1985 سے نواز شریف کے رائٹ ہینڈ مین بنے رہے۔ نواز شریف لفافہ اور شہباز شریف اشتہار دیکھ کر حکومت چلاتے رہے۔ نیب حکومت کے ماتحت نہیں۔ جمہورہت بچاؤ پارٹیوں کے خلاف نیب کیسز پہلے سے ہیں۔ بڑے لوگوں پر ہاتھ ڈالنے سے ہی کرپشن کا خاتمہ ہو گا۔

 

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کی 20 سالہ تاریخ میں اتنی اچھی خارجہ پالیسی کبھی نہیں رہی۔ اب امریکہ بھی پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی کا معترف ہے۔ چین سے بہترین معاشی تعلقات ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ملائشیا اور ترکی کے ساتھ آئیڈیل تعلقات ہیں۔ کراچی میں زیر سمندر تیل و گیس کے بہت بڑے ذخائر ملنے کی امید ہے۔

 

عمران خان کا کہنا تھا کہ نیب کی وجہ سے گذشتہ ادوار میں کرپشن بڑھی۔ سابق چئیرمین کرپٹ لوگوں کو کلین چت دیتے رہے۔ بڑے بڑے مگر مچھ نیب سے استثنا لیتے رہے ہیں۔ این آر او کے سوال پر وزیر اعظم مسکرا دئیے۔

 

ان کا کہنا تھا کہ شہبازشریف لفافہ دئیے بغیر پریس کانفرنس نہیں کرسکتے۔ میرے پارلیمنٹ آنے سے اپوزیشن کی شکلیں بدل جاتی ہیں۔ قوم کا ٹیکس اسمبلی اجلاس پر خرچ ہوجاتا ہے۔ پورے ملک کی طرح میڈیا کو بھی قربانی دینا ہوگی۔ اپوزیشن کرپشن کے ثبوت دینے کے بجائے شور مچا رپی ہے۔

حارث افضل  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں