وزیراعظم عمران خان ممکنہ طور پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی گاڑی چلائیں گے

اسلام آباد (پبلک نیوز) سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلیمان کے دورہ پاکستان کے حوالے سے سکیورٹی کے انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ اسلام آباد پولیس اور دیگر فورسز کے چار ہزار سے زیادہ اہلکار سکیورٹی فرائض انجام دیں گے۔ سعودی وفد کی سیکورٹی کے لیے تین سو گاڑیاں مختص جبکہ سعودی رائل گارڈز کا 125 اہلکاروں پر مشتمل دستہ اسلام آباد پہنچ گیا۔

رائل گارڈز کی جانب سے اسلام آباد کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا گیا اور  سیکورٹی کا جائزہ لیا گیا۔ رائل گارڈز نے سعودی وفد کے قیام کے لیے مختص آٹھ ہوٹلوں کے سکیورٹی انتظامات سنبھال لیے۔ رائل گارڈز اور پاکستانی سکیورٹی فورسز مشترکہ طور پر سعودی مہمانوں کی سکیورٹی کی ذمہ داریاں انجام دیں گے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کے وزیراعظم عمران خان وفاقی کابینہ کے ہمراہ سعودی ولی عہد کا استقبال کریں گے جب کہ معزز مہمان کو ائیرپورٹ سے وزیراعظم ہاؤس لے جانے کے لیے 2 پلان تشکیل دیئے گئے ہیں جس میں ممکنہ طور پر وزیراعظم عمران خان سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی گاڑی چلائیں گے۔

دوسرے پلان کے مطابق معزز مہمان ہیلی کاپٹر کے ذریعہ وزیراعظم ہاؤس روانہ ہوں گے۔ سعودی ولی عہد وزیراعظم ہاؤس میں قیام کریں گے۔

ذرائع نے بتایا کہ سعودی ولی عہد 4 طیاروں کے ساتھ لینڈ کریں گے، پاکستانی فضائی حدود میں معزز مہمان کے طیارے کو جے ایف 17 پروٹوکول حصار میں لیں گے اور پاکستان آمد پر انہیں جے ایف 17 تھنڈر سے سلامی بھی دی جائے گی۔

سعودی وفد کے دورہ کے دوران ریڈ زون کی سکیورٹی فول پروف بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ 16 اور 17 فروری کو ریڈ زون میں کسی کو شناختی دستاویزات کے بغیر داخلہ کی اجازت نہیں ہو گی۔

میٹرو بس سروس جزوی طور پر معطل کیے جانے کی تجویز بھی قابل غور ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شہر کے مختلف علاقوں میں موبائل فون سروس جزوی طور پر منقطع رہے گی۔

وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان کے دوران حفاظتی انتظامات کو حتمی شکل دے دی ہے۔

ذرائع کے مطابق سعودی ولی عہد اسلام آباد کے نور خان ایئربیس پر اتریں گے جہاں سے انھیں وزیر اعظم ہاؤس لے جایا جائے گا۔ سعودی وفد کی سکیورٹی کے لیے  سیکیورٹی کے چار حصار ہوں گے۔

پہلا حصار اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں کا ہو گا جبکہ دوسرا حصار رینجرز کا ہو گا۔ تیسرا حصار فوجی اہلکاروں اور چوتھا حصار شاہی سکیورٹی گارڈز کا ہو گا۔

وزیر اعظم ہاؤس اور آٹھ ہوٹلوں کے سکیورٹی انتظامات پاک فوج کے حوالے کر دیئے گئے ہیں۔

احمد علی کیف  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں