سپریم کورٹ کے ججوں نے جو فیصلہ دیا وہ آئین کے مطابق ہے:‌عمران خان

اسلام آباد (پبلک نیوز) وزیر اعظم پاکستان عمران خان کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے ججوں نے جو فیصلہ دیا وہ آئین کے مطابق ہے۔ فیصلہ پر چھوٹے سے طبقے نے ردعمل دیا ہے۔

قوم سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے آج ایک فیصلہ دیا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے پرایک چھوٹے سے طبقے نے ردعمل دیا۔ پاکستان واحد ملک جو مدینہ کی ریاست کےبعد اسلام کے نام پربنا۔ پاکستان کاکوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں جاسکتا۔ پاکستان ریاست مدینہ کے اصولوں پرچلے گا۔ پاکستان کامقصداسلامی فلاحی ریاست بنانا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے عالمی فورم پر توہین رسالت کا معاملہ اٹھایا۔  پاکستان نے ڈچ پارلیمنٹیرین سے خاکوں کامقابلہ بندکرایا۔ ڈچ عدالت نےکہانبیؐ کی شان میں گستاخی آزادی اظہارنہیں۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ ججز اور آرمی چیف کے خلاف بیان دینے سے کون سا ملک چل سکتا ہے؟ آرمی چیف کے خلاف پراپیگنڈاملک دشمنوں کے مفاد میں ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ بڑی مشکل سے معاشی بحران سے نکل رہے ہیں۔ ہم غریب عوام کےلیے حالات بہتر کرنا چاہتے ہیں۔ سڑکیں بند کرنے کا نقصان غریب پاکستانیوں کو ہورہا ہے۔ ہم ملک سےبے روزگاری ختم کرناچاہتے ہیں۔

پاکستان کے چیف ایگزیکٹو نے واضح کیا کہ سپریم کورٹ کافیصلہ پسند نہ آنے پرملک کوروکناٹھیک نہیں۔ توڑ پھوڑ نہیں ہونے دیں گے،ریاست ذمہ داری پوری کرے گی۔ عوام کے جان و مال کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے۔ حکومت کوسخت اقدامات پر مجبور نہ کیاجائے۔ کسی کا استحصال نہیں ہونے دیں گے۔ اداروں کے خلاف بیان بازی ملک دشمنی کے مترادف ہے۔

پی ٹی آئی حکومت کے سربراہ نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پرکچھ لوگ سیاست چمکاناچاہتے ہیں۔ کوئی شخص ریاست سے ٹکرانے کی کوشش نہ کرے۔ لوگوں کےجان و مال کاتحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ عوامی املاک کی توڑپھوڑ کسی کو کرنے کی اجازت نہیں۔ ملکی معاملات روکنے سے غریب عوام کانقصان ہوگا۔ ریاست کو ایکشن لینے پر مجبورنہ کیاجائے۔

خطاب دیکھنے اور سننے کیلئے لنک پر جائیں:

احمد علی کیف  2 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں