امریکی صدر سے نہ امداد مانگی نہ پاکستان کو شرمندہ ہونے دیا: وزیر اعظم عمران خان

واشنگٹن (پبلک نیوز) وزیراعظم عمران خان نے امریکی تھنک ٹینک یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس سے گفتگو کے دوران کہا ہے کہ میں آزاد ملک میں پیدا ہونے والی نسل سے ہوں۔ جانتا ہوں آزاد ملک اور آزادی کی کیا اہمیت ہوتی ہے۔ امریکا سپر پاور ہے، بہتر تعلقات چاہتے ہیں۔ پاکستان آرمی حکومت کی پالیسیوں کے پیچھے کھڑی ہے۔

 

وزیراعظم عمران خان کا امریکی تھنک ٹینک یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس سے خطاب کے دوران کہنا تھا کہ صدرٹرمپ سے ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی۔ امریکا سپر پاور ہے، بہتر تعلقات چاہتے ہیں۔ اس وقت امریکا اور پاکستان ایک پیج پر ہیں۔ نائن الیون کے واقعہ میں کوئی بھی پاکستانی ملوث نہیں تھا۔ ہم نے دہشت گردی کے خلاف 70 ہزار جانیں قربان کیں۔ اتنی قربانیوں کے بعد امریکا سمجھتا تھا ہم کچھ نہیں کر رہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان آرمی حکومت کی پالیسیوں کے پیچھے کھڑی ہے۔ امریکی جنگ پاکستان منتقل ہو گئی۔ افغان جنگ کے بعد امریکا نے پاکستان کا ساتھ چھوڑ دیا۔ بدترین تباہی کے بعد تحریک طالبان پاکستان نے جنم لیا۔

وزیراعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ ہمارے والدین نو آبادیاتی نظام میں پیدا ہوئے۔ میں آزاد ملک میں پیدا ہونے والی نسل سے ہوں۔ جانتا ہوں آزاد ملک اور آزادی کی کیا اہمیت ہوتی ہے۔ اسپورٹس مین رہنے کے بعد سیاست کا آغاز کیا۔ کرکٹ کے بعد 7 سال اسپتال کی تکمیل میں گزارے۔

 

عمران خان کا کہنا تھا کہ 60 کی دہائی میں پاکستان بہت تیزی سے ترقی کر رہا تھا۔ 70 کی دہائی کے بعد ملک کے حالات خراب ہوئے۔ کرپشن کی وجہ سے پاکستان بہت پیچھے چلا گیا۔ سابقہ حکمرانوں کی کرپشن کی وجہ سے ملک دیوالیہ کے قریب تھا۔ ہمارے سیاستدان ملک کا پیسہ جائز سمجھنے لگے۔ پچھلے 10 سال میں قرضہ 30 ہزار ارب تک پہنچ گیا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ منی لانڈرنگ نے ملک کو بہت نقصان پہنچایا۔ کسی کو کوئی پتا نہیں پیسہ کہاں گیا۔ کئی اداروں کو بہتر بنایا لیکن طویل المدتی کام ہے۔ کرپٹ افراد سے پیسہ نکلوا سکتے ہیں لیکن وقت لگے گا۔ پاکستان کی عدلیہ نےسابق جماعت کے لوگوں کو سسلین مافیا قرار دیا۔ 2 سیاسی جماعتوں نے پاکستان میں 30 سال پنجے گاڑھے رکھے۔

وزیراعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ ہم ہمسائیہ ممالک کے ساتھ پر امن اور اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔ پاک بھارت تعلقات میں کشمیر بڑا مسئلہ ہے۔ حکومت میں آکر سب سے پہلے بھارت کو امن کی دعوت دی۔ پاکستان اور بھارت مشترکہ طور پرغربت کے مسئلہ سے دو چار ہیں۔ بہتر تعلقات کے لیے افغان صدر کو دورہ پاکستان کی دعوت دی۔ افغان مسئلہ کے پائیدار حل کے لیے مزید وقت درکار ہے۔ افغان مسئلہ پر امریکا اور پاکستان کی ایک سوچ ہے۔

 

ان کا مزید کہنا تھا کہ تعلیم کے نظام کو بہتر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پاکستان میں اقلیتوں کو برابر کے حقوق حاصل ہیں۔ پاکستان میں میڈیا برطانیہ سے بھی زیادہ آزاد ہے۔ پاکستانی میڈیا جیسا میڈیا پوری دنیا میں نہیں ہے۔ کیا امریکا یا برطانیہ میں صحافی ٹی وی پر کہہ سکتا ہے کہ وزیراعظم کل اپنی بیوی کو طلاق دے دیں گے۔

احمد علی کیف  4 ماه پہلے

متعلقہ خبریں