ایک دوسرے کو گھسیٹنے کے دعوؤں کے بعد پیپلزپارٹی نے ن لیگ سے ہاتھ ملا لیا

اسلام آباد (فرخ نواز بھٹی) کل گھسیٹنے کے دعوے تو آج شیر و شکر، پیپلزپارٹی نے ن لیگ سے ہاتھ ملا لیا۔ شہباززرداری ملاقات میں کیا کیا ہوا اظہار خیال، اندرونی کہانی پبلک ہوگئی۔ سینیٹ میں تبدیلی کا بگل بج گیا۔ آصف زرداری نے سینیٹ الیکشن میں دھوکے کا رونا رو دیا۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں نہیں چلتی تو سینیٹ میں چلاتے ہیں، سینیٹ میں اپنی عددی برتری جتاتے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر شہبازشریف اور سابق صدر آصف زرداری کی ملاقات ہوئی۔ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کا گٹھ جوڑ، گلے ہی نہیں ملے، حکومت کے خلاف ایکا بھی کر لیا۔

ذرائع دعویٰ کر رہے ہیں کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کا میل جول یوں ہی نہیں۔ حکومتی رویہ کا شاخسانہ ہے۔ پیپلزپارٹی سمجھتی ہے کہ حکومت انہیں دیوار سے لگانا چاہ رہی ہے۔ اسی لیے کوئی بہانہ چلنے نہ دیں۔ اپنا دم دکھا دیں۔ نوازشریف نے بھی یہی سگنل دیا۔

شہبازشریف کو پیپلزپارٹی کو رام کرنے کا کہا تھا۔ نیب کی کارروائیاں اور حکومتی رویوں نے یہ کام کیا کہ اپوزیشن نے ٹھان لی کہ حکومت کو سخت پیغام دیں۔ اپوزیشن سینیٹ میں تبدیلی لائے گی۔ شیری رحمان، رضاربانی یا راجہ ظفر الحق میں سے کسی کو چیئرمین سینیٹ بنائے گی۔

ذرائع بتاتے ہیں کہ سابق صدر آصف زرداری نے اعتراف کیا ہے سینیٹ الیکشن میں ان کے ساتھ دھوکہ ہوا۔ پیپلزپارٹی خود ووٹ دے کر، بھرپور حمایت سے صادق سنجرانی کو چئیرمین سینیٹ کے طور پر لائی تھی لیکن اب آصف زرداری چئیرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو اپنا نہیں سمجھتے۔

بلوچستان میں بی اے پی کی حکومت بننے پر بھی آصف زرداری نالاں ہیں۔ سابق صدر نے گلہ کیا ہے کہ بلوچستان میں پی پی پی کا مینڈیٹ بی اے پی کی گود میں ڈالا گیا۔

ذرائع بتاتے ہیں کہ حکومت کے خلاف محاذ میں ن لیگ تو پہلے ہی تھی، پیپلزپارٹی نے بھی اب سنجیدگی کا دامن تھام کر میدان میں اترنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ن لیگ سے ہاتھ ہی نہیں ملایا، بلکہ بی این پی مینگل گروپ بھی آصف زرداری کی کوششوں سے اپوزیشن اجلاس میں آیا۔

احمد علی کیف  3 ماه پہلے

متعلقہ خبریں