حکمران اگر منہ بند رکھتے تو معیشت کا یہ حال نہ ہوتا: شاہد خاقان عباسی

اسلام آباد (پبلک نیوز) رہنماء مسلم لیگ ن سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ‏آنے والے بجٹ میں عوام دشمن پالیسی سے بچانے کے لیے اجلاس بلایا جائے گا۔ ‏مہنگائی کو سامنے رکھتے ہوئے کم از کم اجرت 20 ہزار روپے کی جائے۔ ‏پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ واپس لیا جائے۔ ‏پیٹرول اور ڈیزل کی وہ قیمت رکھی جائے جو قابل برداشت ہوں۔

 

سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا شہر اقتدار میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آج اے پی سی کے حوالے سے حکمت عملی پر بحث ہوئی۔ ایک کمیٹی تشکیل دیدی گئی ہے جو اے پی سی کے حوالے سے تمام معاملات دیکھے گی۔ ن لیگ کی اکنامک ایڈوآئزی کونسل کا اجلاس بھی بلایا گیا۔ ‏ملک میں افراط زر، مہنگائی، بے روزگاری پر عید کے بعد عوامی رابطہ مہم شروع کی جائے گی۔

 

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ‏آنے والے بجٹ میں عوام دشمن پالیسی سے بچانے کے لیے اجلاس بلایا جائے گا۔ ‏مہنگائی کو سامنے رکھتے ہوئے کم از کم اجرت 20 ہزار روپے کی جائے۔ ‏پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ واپس لیا جائے۔ ‏پیٹرول اور ڈیزل کی وہ قیمت رکھی جائے جو قابل برداشت ہوں۔ ‏آنے والے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہ لگایا جائے، کسی ٹیکس کی شرح میں اضافہ نہ کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‏حکمران اگر منہ بند رکھتے تو معیشت کا یہ حال نہ ہوتا، آج بھی یہی مشورہ دیتا ہوں۔ ‏آج ہر شخص کہتا ہے کہ نیب کا عمل انتقامی ہے احتساب کا نہیں۔ ‏حکومت گری ہوئی ہے اس کو گرانا مقصود نہیں، اصل مسئلہ عوام کے مسائل کا ہے۔ ‏حکومت اگر سچ نہیں بول سکتی تو جھوٹ بھی مت بولے۔

 

‏ شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ آج اگر میاں نواز شریف جیل میں ہیں تو اپنے بیانیے کی وجہ سے۔ ‏ہمارا ہدف حکومت توڑنے اور اقتدار کا نہیں ہے۔ ‏آل پارٹیز کانفرنس فیصلہ کرے گی کہ سڑکوں پر آنا ہے یا نہیں۔ ‏ہمارا ہدف عوام کے مسائل کا حل ہے۔ ‏پاکستان میں اس وقت گھبرانے کا وقت ہے، گھبرانا نہیں تو کوئی اور کہتا ہے۔ ‏آئی ایم ایف سے شرائط میں بہت شکوک و شبہات ہیں۔ ‏چیئرمین نیب کے اخبار کو انٹرویو کی تردید آنی چاہیے تھی۔ ‏انٹرویو میں جو باتیں کہی گئیں وہ چیئرمین نیب کے دائرے اختیار میں نہیں ہے۔

حارث افضل  4 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں