ایڈز میں مبتلا ڈاکٹر کا انتقام، اپنا متاثرہ انجکشن لگا کر 45 افراد کو ایڈز میں مبتلا کر دیا

لاڑکانہ (پبلک نیوز) رتو ڈیرو کے علاقے میں ایڈز پھیلانے کے الزام میں ڈاکٹر کو گرفتار کر لیا گیا جس کے خود ایڈز سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوگئی۔

 

تفصیلات کے مطابق لاڑکانہ میں ایڈز پھیلنے کی وجہ سے متعلق ہولناک انکشافات نے کھلبلی مچادی۔ ایڈز میں مبتلا ظالم ڈاکٹر بچوں سمیت معاشرے سے انتقام لینے لگا اور اپنا متاثرہ انجکشن لگا کر 25 بچوں سمیت 45 افراد کو ایڈز میں مبتلا کر دیا۔

 

کمشنرلاڑکانہ نعمان صدیقی نے انکشاف کیا کہ تحقیقات سے پتہ چلاکہ تمام کیسز ایک ایسی کلینک کے نکلے، جس کا ڈاکٹر خود ایڈز کے آخری اسٹیج میں مبتلا ہے۔

 

ڈی سی لاڑکانہ نعمان صدیق کے مطابق ڈاکٹر نے انتقامی طور پر اپنا انجکشن آنے والے مریضوں کو لگایا، کلینک کے ڈاکٹر کا ذہنی توازن بھی ٹھیک محسوس نہیں ہو رہا، ڈاکٹر کے ذہنی معائنے کے لیے میڈیکل بورڈ بنانے کی ہدایت کردی گئی ہے۔

 

ڈپٹی کمشنر اور محکمہ صحت نے رتوڈیرو میں بچوں سمیت 45 سے زائد افراد میں ایچ آئی وی کی تصدیق کردی ہے۔ ڈاکٹر کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے پولیس نے ملزم کو گرفتار کرلیا ہے اور کلینک کو سیل کر دیا گیا ہے۔

 

دوسری جانب ڈاکٹر مظفر نے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کہ سندھ ایڈز کنٹرول کی ٹیم اپنی نااہلی چھپانے کے لیے ان پر الزام تراشی کر رہی ہے، اگر وہ ایڈز کے شکار ہوتے تو کیا اپنا علاج نہیں کراتے۔

حارث افضل  3 ماه پہلے

متعلقہ خبریں