2018 اور شریف فیملی کا عروج و زوال

لاہور(شعیب ہاشمی) سال 2018 شریف فیملی کے لئے بھاری رہا، پانامہ اسکینڈل کے طوفان نے نوازشریف کو اقتدار سے محروم کیا۔ تو ساتھ ہی جیل کا راستہ بھی دیکھنا پڑا، بڑے میاں کے ساتھ چھوٹے میاں شہبازشریف بھی نیب مقدمات پر جیل کی سلاخوں کے پیچھے گئے، نوازشریف کو نااہلی، گرفتاری کے علاوہ اپنی رفیق حیات کلثوم نواز کی موت کا صدمہ بھی سہنا پڑا۔

 

سال 2018شریف خاندان پر کافی بھاری ثابت ہوا، حکمرانی کے خواہاں سابق وزیراعظم نواز شریف کی پہلے نااہلی ہوئی اور پھر حکومت بھی ہاتھ سے گئی۔ نواز شریف اپنی بیٹی مریم اور داماد کیپٹن ر صفدر کے ہمراہ گرفتار ہو کر جیل بھی گئے، جبکہ ان کی ا ہلیہ محترمہ کلثوم نواز بیماری سے لڑتے لرتے بل آخر 11ستمبر 2018کو خالق حقیقی سے جا ملیں اور نواز شریف کو حکومت کے ساتھ ساتھ شریک حیات کی رحلت کا صدمہ بھی سہنا پڑا۔

 

بڑے میاں کے بعد چھوٹے میاں کے ہاتھ سے بھی پنجاب حکومت سلپ ہو گئی۔عوامی خدمت کے دعویدار سابق وزیراعلی پنجاب شہباز شریف کو خدمات کے اعتراف میں پابند سلاسل کر دیا گیا، جبکہ ان کے داماد علی عمران اور صاحبزادے سلمان شہباز تاحال گرفتاری کے خوف سے مفرور ہیں اور حمزہ شہباز پر بھی مشکلات کے بادل چھائے ہوئے ہیں اور سابق وزیراعظم نوازشریف حالات کو کروٹ دینے میں ایک بار پھر ناکام ہو کر قید ہوگئے۔

عطاء سبحانی  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں