چودھری نثار کی خاموشی: حکمت عملی یا کچھ اور....

اسلام آباد چکری کے چودھری نثار علی خان کی خاموشی، حکمت عملی ہے یا ناراضی؟ قومی اسمبلی کے 2حلقوں میں شکست، صوبائی نشست کا بھی حلف نہ اٹھایا۔

اور تو اور سینیٹ اور صدارتی انتخابات کی دوڑ سے بھی باہر رہے۔ آخر ایسا کیا ہو گیا کہ چودھر ی نثار نے سیاسی سرگرمیوں سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ چودھری نثار کی گوشہ نشینی نے کئی سوالات کھڑے کر دیئے۔

چوہدری نثار، دبنگ سینئر سیاستدان، ماضی میں وزارتِ داخلہ سمیت اہم ترین وزارتوں پر براجمان رہے۔ ان کا ن لیگ کے مرکزی اور با اثر ترین رہنماؤں میں شمار ہوتا تھا۔ مگر ان کو گزشتہ عام انتخابات میں قومی اسمبلی کی دو نشستوں پر شکست کی ہزیمت اٹھانا پڑی۔

ہاتھ آئی تو صرف پنجاب اسمبلی کی ایک نشست۔ مگر چودھری صاحب نے اب تلک اسکا حلف نہیں اٹھایااور حلقے کی عوام کو اسمبلی میں نمائدگی سے محروم رکھا ہے۔ حلف نہ اٹھانے کے باعث نہ تو وہ سینیٹ انتخاب کا حصہ بن سکے اور نہ ہی صدارتی انتخاب کا۔

ذرائع کہتے ہیں کہ چودھری نثار صوبائی سیٹ کا حلف اٹھانے کو باعثِ شرمندگی گردان رہے ہیں۔ کہاں اعلیٰ وفاقی وزارتیں اور کہاں پنجاب اسمبلی کی ایک سیٹ اور وہ بھی اپوزیشن کی۔

سیاسی مبصرین کہتے ہیں کہ چودھری نثار کو یہاں تک پہنچانے میں ان کی انا پسندی ، قوتِ فیصلہ کی عدم موجودگی اور بر وقت فیصلہ سازی کا فقدان وجہ بنے ہیں  ہے۔ انہی غلطیوں کے باعث آج ان کی سیاست ایک صوبائی اسمبلی کے حلقہ تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔

چودھری نثار لیگی قیادت سے اختلافات کے باعث پارٹی میں ناقابلِ قبول ہو چکے ہیں۔ پی ٹی آئی کی سنہری پیشکش کو قبول نہ کر کے انہوں نے یہ ٹرین بھی مِس کر دی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ 'انتظار کرو اور دیکھو' کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ اوردوبارہ ملکی سیاست میں انٹری دینے کو بے تاب بھی۔

احمد علی کیف  4 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں