آزادی کو کچلنےکی بھارتی چال، مقبوضہ کشمیر میں آج سے صدارتی راج نافذ

پبلک نیوز: کشمیریوں کی آزادی کو کچلنے کی مودی سرکار کی نئی چال، بھارتی تسلط برقرار رکھنے کے لیے مقبوضہ وادی میں آج سے صدارتی راج نافذ کردیا گیا۔ 6 ماہ کا گورنر راج بھی کشمیریوں کے حوصلے پست نہ کرسکا۔

بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کر روکنے میں بُری طرح ناکام ہوگئی۔ کشمیریوں کا جذبہ آزادی مدہم کرنے کے لیے بھارتی حکومت کا ہر حربہ الٹ پڑ گیا۔ بلدیاتی انتخابات کا ڈھونگ بری طرح ناکام ہونے اور گورنر راج فلاپ ہونے کے بعد مودی سرکار نے آج سے مقبوضہ وادی میں صدارتی راج نافذ کر دیا ہے۔ قابض بھارتی حکومت نے اوچھا ہتھکنڈا دکھا دیا۔ مقبوضہ وادی میں یہ صدارتی راج دہلی کی براہ راست حکومت کا آغاز ہے۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل فی الفور خصوصی نمائندہ برائے مسئلہ کشمیر کا تقرر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

مقبوضہ وادی میں صدارتی راج پر حریت رہنماوں کا بھی سخت موقف بھی سامنے آیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر کے آئین کے مطابق گورنر راج میں توسیع کی کوئی گنجائش نہیں۔ وادی میں دہلی سرکار کا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے صدارتی راج نافذ کیا گیا۔

بھارتی حکومت نے گورنر مقبوضہ کشمیر ستیا پال ملک کی سفارشات پر مقبوضہ وادی میں صدارتی راج کے لیے ہاں کی۔ صدارتی راج کے نفاذ کے دوران عام انتخابات کا اعلان کیا جائے گا تاہم مقبوضہ کشمیر میں عام انتخابات کا اعلان نہ ہونے کی صورت میں صدارتی راج مزید 6 مہینے کے لیے بڑھایا جاسکتا ہے۔

حارث افضل  3 ماه پہلے

متعلقہ خبریں