ڈالر کی قیمتوں میں تبدیلی کی لہر برقرار،142سے کم ہو کر139 روپے پر آگیا

کراچی(پبلک نیوز) اسٹیٹ بینک کی مداخلت، ڈالر کی اونچی اڑان کے بعد نچلی پرواز، ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح 142سے کم ہو کر139 روپے پر آگیا، حکومتی اقدامات کے باوجود روپیہ"ٹکے ٹوکری"۔ لوگ سو کر اٹھے تو غیرملکی قرضوں کا بوجھ اربوں روپے بڑھ چکا تھا، مہنگائی کا سونامی آنے کو تیار۔


انٹر بینک میں ڈالر دوران ٹریڈنگ تاریخ کی بلند ترین سطح 142 روپے تک پہنچ گیا تھا، مرکزی بینک کے مداخلت کرنے کے بعد ڈالر 139 روپے کا ہو گیا۔ انٹر بینک میں ڈالر 8 روپے اضافے سے تاریخ کی بلند ترین سطح پہنچ گیا اور اس کی قیمت 142 روپے ہو گی تھی۔ ڈالر کی بڑھتی قیمت کو دیکھتے ہوئے اسٹیٹ بینک نے کمرشل بینکوں سے رابطے کیا اور صرف حقیقی خریداروں کو ڈالر فروخت کرنے کے احکامات جاری کیے، جس پر ڈالر 142 روپے سے نیچے آکر 139 روپے کا ہو گیا۔

جمعرات کے حساب سے ڈالر اب بھی ساڑے 4 روپے مہنگا ہو ہو گیا ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تجارتی خسارہ اور قرض و سود کی ادائیگیوں کے باعث ہر ہفتے زرمبادلہ کے ذخائر میں اوسط 200 ملین ڈالر کی کمی ہو رہی ہے۔ موجودہ حالات مدنظر امپوٹرز ڈالر کی بڑھ چڑھ کر خریداری کر رہے ہیں۔

 

عطاء سبحانی  11 ماه پہلے

متعلقہ خبریں