وزیراعظم عمران خان کے حکم کے باوجود ادویات کی قیمتیں کم نہ ہو سکیں

اسلام آباد(پبلک نیوز) ادویات کی قیمتیں حکم کے باوجود کیوں کم نہ ہو سکیں؟ پبلک نیوز وجہ سامنے لے آیا۔ ادویہ ساز کمپنیوں نے قیمتوں میں کمی سیلز ٹیکس ختم کرنے سے مشروط کر دی۔ اسپتالوں میں فری ٹیسٹ کی سہولت بھی ختم کرد ی گئی۔

 

ادویات کی قیمتوں میں کمی نہ ہو سکی، وزیراعظم عمران خان کے حکم پر عملدرآمد نہ ہو سکا، قیمتیں نہ گھٹنے کی بڑی وجہ ڈالر مہنگا اور سیلز ٹیکس قرار دیا گیا۔ پاکستان فارما اینڈ مینو فیکچرر ایسوسی ایشن ادویات کی قیمتیں کم کرنے پر رضا مند ہے، لیکن قیمتیں کم کرنا سیلز ٹیکس ختم کرنے سے مشروط کر دیا۔ پی پی ایم اے کے مطابق حکومت نے ابتک ہمارے مطالبات پر جواب نہیں دیا، خام مال اور ڈالر مہنگا ہونے کے باعث ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔

 

ادھر وفاقی وزیر صحت عامر کیانی کے حکم پر اب تک 380کمپنیوں کا اسٹاک قبضہ میں لے لیا گیا ہے۔ اشیائے ضروریات کے بعد اب ادویات بھی غریب کی پہنچ سے دور ہو چکی ہیں۔ مریضوں کو ایکسرے سی ٹی اسکین، الٹراساؤنڈ سمیت دیگر ٹیسٹ کی فیسیں ادا کرنی پڑ رہی ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق جان بچانے والی ادویات 399روپے تک مہنگی ہو گئیں، امراض قلب کی دوا 317روپے مزید بڑھ گئی ،، شوگر کنٹرول کرنے والی دوا کی قیمت میں 272سے 460روپے کا اضافہ ہو چکا ہے۔

عطاء سبحانی  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں