کرپشن کی وجہ سے ملک چھوڑ کر جانے والے سرمایہ کار واپس آگئے: وزیراعظم

میانوالی(پبلک نیوز) وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ملک سے اربوں روپے چوری کیے گئے، باپ بیٹا کاغذ پکڑ کر کہتے ہے کہ سیاست اور پارٹی وارثت میں مل گئی، کرپشن کے باعث بڑی کمپنیاں ہمیں چھوڑ گئیں، شہبازشریف نے عثمان بزدارکیلئے گھٹیا زبان استعمال کی۔

 

میانوالی میں نمل یونیورسٹی کے چھٹے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں وسائل کی کوئی کمی نہیں جب کہ جو سرمایہ کار کرپشن کی وجہ سے ملک چھوڑ کر گئے تھے، وہ سب واپس آرہے ہیں۔ ایک بار پھر اپنے کھلاڑی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ عثمان بزدار ملک سے باہر فیکٹریاں نہیں بنائے گا، چالیس گاڑیاں لیکر نہیں گھومتا۔

عثمان بزدارد کا علاج بھی پاکستان میں ہو گا اور وہ ایسے اسپتال بنائیں گے کہ لوگوں کو علاج کے لیے باہر نہ جانا پڑے اور وہ بہترین وزیراعلیٰ پنجاب بنیں گے۔عثمان بزدار پنجاب کے سب سے بہترین وزیراعلیٰ ہوں گے کیونکہ ان کا مفاد پاکستان سے وابستہ ہے۔ شہبازشریف نے عثمان بزدار کیلئے گھٹیا زبان استعمال کی، بتائیں کیا قابلیت تھی کہ وہ وزیراعلیٰ بنے؟


وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ چین میں 400 وزیروں کو جیلوں میں ڈالا گیا۔ حکمرانوں سے ان کے مال کے بارے میں پوچھنے سے جمہوریت خطرے میں نہیں پڑتی۔ لائیو اسٹاک میں ہم ساتویں نمبر پر ہیں، لیکن خشک دودھ امپورٹ کرتے ہیں۔ ہمارے کسان گائے سے 6 لیٹر دودھ لیتے ہیں اور ہالینڈ میں 40 لیٹر لیتے ہیں، ہمارے کسانوں کو نئی ٹیکنالوجی کا پتا نہیں۔ پاکستان کا جوبھی لیڈر ہو گا وہ عوام کے سامنے جوابدہ ہو گا، جمہوریت میں میرٹ ہوتی ہے بادشاہت میں نہیں۔

وزیراعظم عمران نے طلبہ کو اپنے پیغام میں کہا کہ پیسہ بنانا زندگی کا مقصد نہ رکھیں، جن لوگوں نے پیسے کو زندگی کا مقصد بنایا ان کو آپ خوش نہیں دیکھیں گے۔ دوسرے انسانوں کی بہتری کے لیے کام کرنا اللہ کو پسند ہے۔ اپنی غلطیوں کاجائزہ لیں۔ محنت کریں اور اوپر آئیں۔ اللہ تعالی کامیابی اسے دیتا ہے جو محنت کرتا ہے، پاکستان میں وسائل کی کوئی کمی نہیں، جو سرمایہ کار کرپشن کی وجہ سے ملک چھوڑ کر گئے تھے، وہ سب واپس آرہے ہیں۔

 

عمران خان کا کہنا تھا کہ کسی دوسرے کلچر کو اپنانے والے غلام ذہن بن جاتے ہیں، علامہ اقبال کی شاعری کو پڑھیں تو ایسے لگتا ہے وہ آج بھی ہم سے بات کررہے ہیں۔ طلبہ کے والدین کے چہروں پر خاص خوشیاں دیکھ رہا ہوں، طلبا سے زیادہ والدین کے چہروں پرخوشی ہے۔ دیہاتی علاقے میں پرائیویٹ یونیورسٹی کے بارے کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ اتنے دور دراز علاقے میں یونیورسٹی قائم کرنا مشکل ہوتا ہے۔

عطاء سبحانی  3 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں