وزیرِ اعظم کی زیرصدارت پٹرولیم سیکٹر سے متعلقہ ایشوز پر اہم اجلاس

اسلام آباد(پبلک نیوز) وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت پٹرولیم سیکٹر سے متعلقہ ایشوز پر اہم اجلاس، ملک میں تیل اور گیس کے ذخائر کی دریافت کے لئے موجودہ قوانین اور انتظامی اصلاحات پر غور کیا گیا۔

 

وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت پٹرولیم سیکٹر سے متعلقہ ایشوز پر اہم اجلاس ہوا۔ اجلاس میں ملک میں تیل اور گیس کے ذخائر کی دریافت کے لئے موجودہ قوانین اور انتظامی اصلاحات پر غور کیا گیا۔ وزیرِ اعظم کی تیل و گیس دریافت سے وابستہ لوکل کمپنیوں کوایکسپلوریشن کے سلسلے میں کوششیں تیز کرنے کی ہدایت۔

 

اجلاس کے دوران وزیرِ اعظم کی پٹرولیم ڈویژن کو تیل و گیس کے ذخائر دریافت کرنیوالی غیر ملکی کمپنیوں کو ہر ممکنہ سہولت فراہم کرنے کی ہدایت۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ وزارت سے منظوریوں کے عمل کو کم سے کم جبکہ غیر ضروری طوالت اور سرخ فیتے کے خاتمے کے لئے تمام عمل کو ڈیجیٹل کرنے کے ساتھ ساتھ ہر ضروری منظوری کے لئے ایک مخصوص معیاد میں تکمیل کو یقینی بنایا جائے۔

 

اجلاس میں وزیرِ اعظم کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا گیا کہ تیل و گیس کے کنوؤں کی ڈویلپمنٹ کے عمل میں کمپنیوں کو منظوریوں کے عمل کی غیر ضروری بندشوں سے آزاد کر کے وزارت کے کردار کو مانیٹرنگ تک محدود کیا جا رہا ہے۔ پاکستان میں کام کرنے والی تیل و گیس کے شعبے سے وابستہ غیر ملکی کمپنیوں کو مکمل سیکورٹی مہیا کی جائے گی۔ ملک میں سیکورٹی کی موجودہ بہتر صورتحال کے ساتھ ساتھ تیل و گیس کمپنیوں کو مزید سیکورٹی فراہم کرنے کے لئے خصوصی فورس تشکیل دینے کا فیصلہ۔

 

اجلاس میں پاکستان میں موجود تیل اور گیس کے ذخائر کی دریافت کے لئے معروف غیر ملکی کمپنیوں کو ترغیب دینے کے لئے بیرون ممالک روڈ شوز کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔ تیل و گیس کی دریافت کے لئے فرنٹیئر زون کے قیام اور کمپنیوں کو گیس کی پرکشش قیمت دینے کے حوالے سے بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ وزیرِ اعظم کی ہدایت کی کہ تیل و گیس کی دریافت کے لئے نئے قوانین جلد از جلد مشترکہ مفادات کی کونسل کے سامنے پیش کیے جائیں تاکہ ان کو حتمی شکل دی جا سکے۔ اجلاس میں گیس کی چوری اور ضیاع کی روک تھام کے لئے سوئی ناردرن اور سوئی سدرن کی جانب سے لائحہ عمل کا جائزہ لیا گیا۔

 


وزیرِ اعظم اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قدرت نے پاکستان کو دیگر ذخائر کے ساتھ ساتھ تیل و گیس کے بھی مناسب ذخائر سے نوازہ ہے جس کی دریافت اور انہیں برؤے کار لانے سے ملکی ضروریات بڑی حد تک پوری کی جا سکتی ہیں۔ بدقسمتی سے ماضی میں ملک میں موجود تیل و گیس کی ذخائر کی دریافت پر توجہ دینے کی بجائے مہنگی امپورٹ کو ترجیح دی گئی جس سے نہ صرف صنعتی صارفین متاثر ہوئے بلکہ عام عوام پر مہنگائی کے بوجھ میں اضافہ ہوا۔ اجلاس میں وزیرِ خزانہ اسد عمر، وزیرِ پٹرولیم غلام سرور خان، معاون خصوصی افتخار درانی، سیکریٹری پٹرولیم اور پٹرولیم ڈویژن کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔

عطاء سبحانی  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں