شریف فیملی کو این آر او نہ ملتا تو منی لانڈرنگ کا خاتمہ ہو چکا ہوتا: وزیراعظم

اسلام آباد(پبلک نیوز) ملک پر قرضوں کا پہاڑ اور درپیش چیلنجز، وزیراعظم سے وزیراطلاعات فواد چودھری کی اہم ملاقات، وزیراعظم نے کہا کہ حدیبیہ کیس میں شریف فیملی کو این آر او نہ ملتا تو منی لانڈرنگ کا خاتمہ ہو چکا ہوتا۔ بدقسمتی سے ہر کیسز میں حدیبیہ کیس کو بطور نمونہ استعمال کیا گیا۔

 

وزیراعظم عمران خان سے وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین نے ملاقات کی۔ ملاقات میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اگر جنرل مشرف کی جانب سے حدیبیہ کیس میں شریف فیملی کو این آر او نہ ملتا اور اس کیس کا فیصلہ میرٹ پر کیا جاتا تو آج پاکستان میں منی لانڈرنگ کا خاتمہ ہو چکا ہوتا۔ بدقسمتی سے حدیبیہ کیس میں ملنے والے این آر او کو آئندہ آنے والے تمام کیسز میں ماڈل کے طور پر استعمال کیا گیا۔ اب تک منی لاندڑنگ سے متعلق سامنے آنے والے تمام کیسز میں حدیبیہ کیس کا ماڈل استعمال کیا گیا ہے جہاں اپنے فرنٹ مینوں کے ذریعے پیسہ ملک سے باہر بھیجا گیا اور پھر واپس منگوایا گیا۔

 

وزیراعظم نے وزیر اطلاعات کو تمام تفصیلات میڈیا کے ذریعے عوام تک پہنچانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو اصلیت سے آگاہ کیا جائے تاکہ ملکی معیشت پر ان سیاہ کاریوں کے نقصانات سے ان لوگوں کو آگاہ کیا جا سکے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پچھلے دس سالوں میں لیے جانے والے ساٹھ ارب ڈالر بیرونی قرضے کا حساب لینا چاہیئے تاکہ پتا چلے کہ عوام کو مقروض بنا کر خطیر رقم سے کس نے اپنی ذاتی تجوریاں بھری ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ حکومت نے جو قوائد بنائے ہیں، اس سے منی لانڈرنگ پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

عطاء سبحانی  1 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں