اپوزیشن کا شور صرف احتساب سے توجہ ہٹانے کیلئے ہے: وزیراعظم

مہمند(پبلک نیوز) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ قبائلی علاقوں میں تعلیم، صحت اور روزگار کا مسئلہ ہے، ہمیں چین کی طرح اپنے ملک کو اٹھانا ہو گا، سب کو مل کر قبائل کی مدد کرنی چاہیے۔ پاک فوج کو امن قائم کرنے پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

 

وزیراعظم عمران خان نے مہمند ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھ دیا، مہمند ڈیم کے سنگ بنیاد کے حوالے سے منعقد تقریب سے وزیراعظم عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ منافق کا درجہ کافر سے زیادہ نیچے ہے، منافق اندر سے اسلام کو نقصان پہنچاتا ہے، منافق کہتا کچھ اور ہے کرتا کچھ اور ہے، گزشتہ حکومتیں ملک کے بارے سوچنے میں ناکام رہیں، سابق چیف جسٹس کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، ثاقب نثار نے ڈیم کی بنیاد رکھ کر بہترین کام کیا۔ عدلیہ نے ملک کے آبی بحران کا مسئلہ اٹھایا، ملک میں سب سے بڑا مسئلہ بے روزگاری کا ہے۔ بے روزگاری بیرونی سرمایہ کاری آنے سے ختم ہو گی۔

 

وزیراعظم خطاب کے دوران کہا کہ مہمند قبیلے کے مسائل کو سمجھتا ہوں، ڈیم بنانا عدلیہ کا نہیں حکومتوں کا کام ہوتا ہے، قبائلی علاقوں میں تعلیم، صحت اور روزگار کا مسئلہ ہے۔ پاک فوج کو امن قائم کرنے پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں، امن کے بغیر میں ملک میں بیرونی سرمایہ کاری نہیں آسکتی، امن قائم ہونے سے ملک میں سرمایہ کاری اور خوشحالی آئے گی، 60 کی دہائی میں پاکستان تیزی سے ترقی کر رہا تھا، ہم کو چین کی طرح اپنے ملک کو اٹھانا ہو گا۔

وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ چین نے 30سال میں 70کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا، چین والے الیکشن کی تیاری نہیں کرتے آگے کی سوچتے ہیں، جہاں سے جو دریافت ہو گا پہلا حق مقامی لوگوں کا ہو گا، حکومت کا کام لوگوں کی بہتری کے لیے سوچنا ہے، افغانستان میں امن آنے سے تجارت بڑھےگی، مہمند پر ساڑھے 4 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے، قبائلی علاقے میں فورجی اور تعلیمی اداروں کے مطالبے پورے کریں گے۔ آج لوگ پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں، سب کو مل کر قبائل کی مدد کرنی چاہیے، شہروں میں صاف پانی کا سنگین مسئلہ ہے، ہم نے 5 سال میں 50 لاکھ گھر بنانے ہیں۔

 

وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ووٹ کے لیے نہیں ملکی ترقی کے لیے کام کرنا ہے، چین میں تربیلا اور منگلا جیسے 5 ہزار ڈیم ہیں، حکمران کے پاس پیسہ لوگوں کی امانت ہوتا ہے۔ پاکستانی قانون کی بالادستی اور نظام عدل چاہتے ہیں، ملک کو لوٹنے والے بیرون ملک علاج کرانے جاتے ہیں، اگر آپ لیڈر ہیں تو اپنے اوپر لگے کرپشن کے الزامات کا جواب دیں، جو لیڈر اپنی کرسی بچاتا ہے کبھی لیڈر نہیں بن سکتا۔ اپوزیشن کا شور صرف احتساب سے توجہ ہٹانے کے لیے ہے، چوری کرنے والا سربراہ پورے ملک کو چوری پر لگا دیتا ہے، اگر این آر او دوں گا تو قوم سے غداری کروں گا، ملک آدمی کی نہیں، سربراہ کی چوری سے تباہ ہوتا ہے، جو شور کر رہے ہیں ان کا مقصد صرف این آر او لینا ہے۔

عطاء سبحانی  2 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں