اسلام آباد میں پرائیویٹ اسکولز سے متعلق کیس کی سماعت

اسلام آباد (پبلک نیوز) نگران وفاقی حکومت نے پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن کے مؤقف کی تائید کردی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بھی سی ڈی اے کی طرف سے اسکولز سیل کرنے کی مخالفت کر دی۔ عدالت نے سی ڈی اے کو رہائشی علاقوں میں قائم نجی اسکولز کو سیل کرنے سے روک دیا۔

اسلام آباد کے رہائشی علاقوں میں پرائیویٹ اسکولز کی منتقلی کےخلاف کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی۔ چیف جسٹس نے کہا رہائشی علاقوں میں اسکولز کھول رکھے ہیں۔ جس گھر کے ساتھ اسکول کھل جائے اس گھر کا سکون برباد ہو جاتا ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا سی ڈی اے اپنے قانون پر عمل درآمد نہ کرائے؟ پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن کے وکیل نے کہا کہ تعلیم کا ریسٹورنٹ اور ہوٹلز سے موازنہ نہ کیا جائے۔ ساڑھے چار لاکھ بچے پرائیوٹ سکولز میں پڑھتے ہیں۔ اسکولز کی دوسری جگہ منتقلی کے لیے سی ڈی اے جگہ فراہم کرے۔

نگران وفاقی حکومت نے بھی پرائیوٹ اسکولز ایسوسی ایشن کے مؤقف کی تائید کردی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے سی ڈی اے کی طرف سے اسکولز سیل کرنے کی مخالفت کی۔ کہا میرے بھی چھوٹے چھوٹے بچے ہیں جو سکول جاتے ہیں۔ 52اسکولز بند کر دیئے گئے۔ سی ڈی اے کو پرائیوٹ سکولز سیل کرنے سے روکا جائے۔ عدالت نے وفاقی حکومت کی استدعا پر سی ڈی اے کو پرائیویٹ اسکولز سیل کرنے روک دیا۔

پرائیویٹ اسکولز کو متبادل جگہ فراہم کرنے کے سوال پر سی ڈی اے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت 15اگست تک ملتوی کر دی۔

1 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں