والدین نجی سکولوں میں مرضی سے جاتے ہیں کوئی زبردستی نہیں بلاتا: چیف جسٹس پاکستان

اسلام آباد (پبلک نیوز) اسکول فیسوں سے متعلق کیس میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ والدین اگر نجی اسکولوں میں جاتے ہیں تو ان کی اپنی مرضی ہے۔ ریاست کو چاہیے کہ وہ سرکاری اسکولوں میں اعلیٰ تعلیم، دینی تعلیم، فری یونیفارم اور دودھ کا گلاس فراہم کرے۔

سکول فیسوں میں اضافہ سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آئین کا آرٹیکل 18 کاروبار اور تجارت کی بات کرتا ہے، سمجھنے کی ضرورت ہے کہ تعلیم تجارت میں آتی ہے کہ کاروبار میں۔ ریاست کا کام ہے کہ لوگوں کو مواقع فراہم کرے۔

اعلیٰ اور معیاری تعلیم، دینی تعلیم، فری یونیفارم اور دودھ کا گلاس بھی سرکاری سکولوں کو فراہم کرنا چاہیے۔ اس سب کے بعد پھر عوام کی مرضی ہے کہ وہ سرکاری اسکول میں جائے مدرسے میں جائے یا نجی اسکول میں۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے سوال کیا کہ معیاری اور مساوی تعلیم فراہم کرنے کے لیے ریاست کردار کیوں ادا نہیں کررہی؟ جہاز کی بزنس کلاس یا اکانومی کلاس میں سفر کے لیے قیمتوں میں فرق ہوتا ہے، ویسے ہی اگر کوئی سکول بہتر معیاری سہولتیں فراہم کررہا ہے تو سہولتوں کے عوض فیس کیوں نہیں لے سکتا۔

والدین نجی سکولوں میں اپنی مرضی سے جاتے ہیں کوئی زبردستی نہی بلاتا۔ ریاست کیوں بضد ہیں کہ اضافہ پانچ فیصد کیا جائے، اگر افراط زر کی شرح دس فیصد ہوجائے تو فیس میں اضافہ پانچ فیصد تک کیسے محدود رہ سکتا ہے، خدا نخواستہ روپے کی قدر بے تحاشا گر جائے تو بھی فیس میں پانچ فیصد تک اضافہ ممکن نہیں ہو گا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم نے بھی سرکاری سکول میں پڑھا ہے لیکن اب وہ سکولز کہیں نظر نہیں آتے۔ وقت کی کمی کے باعث سماعت پیر تک ملتوی کر دی گئی۔

احمد علی کیف  1 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں