وزیراعظم کے انتخاب کا طریقہ کار کیا ہو گا؟

اسلام آباد (پبلک نیوز) انتقال اقتدار کا تیسرا اور اہم ترین مرحلہ شروع ہو گیا ہے۔ کل ملک کے نئے چیف ایگزیکٹو یعنی وزیراعظم کا انتخاب کیا جائے گا۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور متحدہ اپوزیشن کے شہبازشریف کے درمیان مقابلہ ہو گا۔

17اگست کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم کی نشست کے لیے امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہو گا۔ انتخاب خفیہ بیلٹنگ کی بجائے ڈویژن آف ہاؤس کے ذریعہ ہو گا۔ یعنی جتنے بھی امیدوار ہوں گے اسپیکر قومی اسمبلی ان کے لیے پارلیمنٹ  ہاؤس کی الگ الگ لابیاں مختص کریں گے۔

اس طرح ہر امیدوار کے حامی اپنی مخصوص لابی میں جا کر اپنے امیدوار کی حمایت کرتے ہوئے اپنا اندراج رجسٹر میں کروائیں گے۔ جس کے بعد رجسٹر میں کیے گئے اندارج کا شمار کر کے اکثریت لینے والے امیدوار کا اعلان کیا جائے گا۔

اگر پہلے مرحلہ میں دو سے زیادہ امیدوار ہوں تو پہلی اور دوسری پوزیشن حاصل کرنے والے امیدواروں میں دوبارہ انتخاب ہو گا۔ اگر مقابلہ دو امیدواروں کے درمیان ہو گا تو پھر اکثریت لینے والے امیدوار کو قائد ایوان یعنی وزیراعظم بنایا جائے گا۔

وزیراعظم کے انتخاب کے وقت اگر کوئی رکن قومی اسمبلی پارٹی ہدایت کے برعکس کسی امیدوار کی حمایت کرے گا تو اس کے خلاف کارروائی کر کے  اسے ڈی سیٹ بھی کیا جا سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق اس طریقہ کار کے تحت وزیراعظم کے انتخاب میں ہارس ٹریڈنگ کا راستہ بند کر دیا گیا ہے۔

احمد علی کیف  1 سال پہلے

متعلقہ خبریں