پاکستان میں عجب کرپشن کی ایک اور غضبناک کہانی منظر عام پر آگئی

لاہور(شاکر محمود اعوان) نیب نے وفاقی حکومت کیجانب سے خریدی گئی 33 ہائی ٹیک لگژری گاڑیوں کی خریداری سے متعلق تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ33 بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری میں کرپشن سے قومی خزانے کو 98 کروڑ 30 لاکھ کا نقصان ہوا۔

 

پاکستان میں کرپشن، بد دیانتی، اداروں کو عدم استحکام اورقومی خزانے کو دھیمک کی طرح چاٹنے والوان کے خلاف احتساب کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ نیب نے بیرون ممالک سے خریدی گئی 33 لگثرری، ہائی ٹیک، بم ہروف گاڑیوں میں کروڑوں روپے کرپشن کیخلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق روالپنڈی نیب میں وزارت خارجہ، وزارت داخلہ، انٹیلیجنس بیورو کے افسران، آفیشلز اور اہم شخصیات کیخلاف تحقیقات کیجا رہیں ہیں۔

 

نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ 2015/16 میں خریدی گئی 33 لگثری گاڑیوں کی خریداری میں بڑے پیمانے پر کرپشن کی گئی۔ نیب کیجانب سے لگائے گئے ایک محتاط اندازے کے مطابق 33 گاڑیوں کی خریداری میں قومی خزانے کو 98 کروڑ 30 لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔ افسران کیجانب سے بلڈ پروف گاڑیوں کی خریداری میں کرپشن کے شواہد ملے ہیں، نیب زرائع کا کہنا ہے کہ متعلقہ وزارتوں اور ادروں کے افسران اور آفیشلز نے اختیارات سے تجاوز اور غیر قانونی اقدامات کیے جس کیخلاف تحقیقات جاری ہیں۔

 

حکومت پاکستان کیجانب سے 33 بیش قیمت گاڑیاں غیر ملکی وفود اور ملکی اہم شخصیات کو فل پروف سیکیورٹی دینے کی غرض سے منگوائی گئیں تھیں۔33 بلٹ پروف گاڑیوں میں بی ایم ڈبلیو اور مرسیڈیز گاڑیاں شامل ہیں، نیب زرائع کا کہنا ہے کہ گاڑیاں انتہائی مہنگے داموں خریدیں گئیں ہیں۔

 

عطاء سبحانی  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں