خیبرپختونخوا میں شامل ہونے والے نئے ضلعی انتخابات جاری

پبلک نیوز: خیبرپختونخوا میں شامل ہونے والے نئے اضلاع میں انتخابات کے لئے پولنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ پولنگ کا عمل صبح آٹھ بجے شروع ہوا ہے اور شام 5 بجے ختم ہو گا۔ الیکشن کمیشن میں شکایات سیل قائم کر دیا گیا ہے۔ ووٹرز اور انتخابی عملے کے لیے ہدات نامہ بھی جاری کیا گیا ہے۔

 

تفصیلات کے مطابق پولنگ اسٹیشن کے اندر کسی شخص کو سمارٹ موبائل فون اور کیمرہ لانے کی اجازت نہیں ہے۔ ووٹنگ کے لیے اصل شناختی کارڈ ہمراہ لانا ضروری ہوگا۔ زائد العمیاد قومی شناختی کارڈ بھی قابل قبول ہو گا۔ شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی قبول نہیں ہو گی۔ شناختی کارڈ کے علاوہ کوئی اور دستاویز قابل قبول نہیں ہو گی۔

 

مریضوں، حاملہ خواتین، معذور افراد، بزرگ شہریوں اور خواجہ سراؤں کو پولنگ کے عمل میں ترجیح دی جائے گی۔ الیکشن کمیشن میں شکایات سیل قائم کر دیا گیا ہے۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل کی سربراہی میں دو ٹیموں پر مشتمل کمیونیکیشن پلان ترتیب دیا گیا ہے۔ شکایت سیل دو شفٹ میں کام کرے گا۔ ووٹرز شکایات کے لیے الیکشن کمیشن کے دیے گئے فون نمبرز پر رابطہ کرسکتے ہیں۔

 

الیکشن کمیشن کی جانب سے میڈیا کے لیے ہدایت نامہ بھی جاری کیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ الیکٹرانک میڈیا موصول غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج شام 6 بجے سے پہلے نا چلائے۔ غیر حتمی اور سرکاری نتائج شام 6 بجے کے بعد میڈیا پر چلائے جا سکتے ہیں۔ غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کا احترام کیا جائے۔

 

الیکشن کمیشن کے مطابق پولنگ میں رکاوٹ یا پولنگ اسٹیشن پر قبضہ اور پولنگ عملے کو یرغمال بنانے کی صورت میں الیکشن ایکٹ کے سیکشن 171 کی خلاف ورزی ہو گی۔ سیکشن کی خلاف ورزی کرنے والے کو پریذائڈنگ افسر مجسٹریٹ درجہ اول کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے سیکشن 174 کے تحت سزا سنائے گا۔ الیکشن ایکٹ کے سیکشن 174 کے تحت خلاف ورزی کرنے والے شخص کو تین سال قید یا ایک لاکھ جرمانہ یا دونوں ہوسکتے ہیں۔

 

الیکشن میں جعل سازی کرنے والا شخص سیکشن 169 کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوگا۔ 169 سیکشن کا مرتکب شخص کو پریذائڈنگ افسر مجسٹریٹ درجہ اول کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے سیکشن 183 کے تحت سزا سنا سکتا ہے۔ سیکشن 183 کے تحت مرتکب شخص کو دوسال قید اور ایک لاکھ جرمانہ یا دونوں ہو سکتی ہیں۔

عطاء سبحانی  1 ماه پہلے

متعلقہ خبریں