خیبرپختونخوا میں حکومت اور ڈاکٹرز آمنے سامنے

پشاور (پبلک نیوز) خیبرپختونخوا میں حکومت اور ڈاکٹرز آمنے سامنے آ گئے، حکومت نے ہڑتالی ڈاکٹرز کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے احکامات دے رکھے ہیں۔ تمام ڈی ایچ اوز اور اسپتالوں کو مراسلہ بھی جاری کر دیا گیا، لیکن ڈاکٹرز بھی احتجاج پر بضد ہیں۔


پشاور میں حکومت اور ڈاکٹرز آمنے سامنے آ گئے۔ خیبر پختونخوا حکومت نے ہڑتالی ڈاکٹرز کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کے احکامات دے دیئے۔ پابندی کے باوجود ہڑتال کرنے والے ڈاکٹروں و طبی ملازمین کے خلاف ایف آئی آرز درج ہوگی۔

ایکشن نہ لینے والے ڈی ایچ اوز یا اسپتال انتظامیہ کے خلاف بھی کارروائی کا فیصلہ کر لیا گیا۔ تمام ڈی ایچ اوز اور اسپتالوں کو مراسلہ جاری کر دیا گیا۔ حکومت صوبے میں خدمات کی لازمی فراہمی کے قانون 1958  کا نفاذ کرچکی ہے۔ ڈیوٹی کا بائیکاٹ کرنے والے ملازمین کے خلاف قانون کے تحت سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ حکومت مریضوں کو علاج و دیگر سروسز کی فراہمی کے حوالے سے زیرو ٹالرنس رکھتی ہے۔

 

ایف آئی آر کے اندراج کی دھمکی بھی کام نہ آسکی، ڈاکٹرز آج پھر احتجاج کریں گے۔ ڈاکٹروں کا آج خیبرپختونخوا اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے کا اعلان کر دیا۔ حکومتی تنبیہ کے باوجود ڈاکٹروں نے ہڑتال جاری رکھنے کا فیصلہ کر لیا۔ ڈاکٹرز آج ایل آر ایچ میں ہڑتال کریں گے۔ ڈاکٹر تنظیمیں ایل آر ایچ سے احتجاجی ریلی نکالیں گی۔ خیبرپختونخوا ڈاکٹرز کونسل کا کہنا تھا کہ  حکومت کے کسی بھی نمائندے کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

حارث افضل  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں