سینیٹ میں وزراء کی غیر حاضری پر اپوزیشن آج بھی سراپا احتجاج

اسلام اباد(پبلک نیوز) وزراء کی غیر حاضری پر سینیٹ میں اپوزیشن آج بھی سراپا احتجاج ہے، ایوان کی کارروائی کو سنجیدگی سے لیا جائے۔ چیئرمین سینیٹ کی وارننگ پر ایک طرف تو قائد ایوان نے اپوزیشن کو منا لیا اور دوسری طرف وزیراعظم کی ہدایت پر کابینہ کا اجلاس چھوڑ کر 5 وزراء بھی بھاگم بھاگ سینیٹ پہنچے۔

 

سینیٹ کے اجلاس کی صدارت چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے کی، اجلاس میں وزراء کی غیر حاضری پر اپوزیشن نے احتجاج کیا اور ایوان سے واک آﺅٹ کیا۔ چیئرمین سینیٹ کی ہدایت قائد ایوان شبلی فراز اپوزین کو منا کر واپس لائے۔ چیئرمین سینیٹ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ایوان کی کارروائی کو سنجیدہ لیا جائے اگر وفاقی وزراء کابینہ کے اجلاس میں ہیں تو ان کو ایوان کی کاروائی کے لئے بلایا جائے۔ بعد ازاں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں شریک پانچ وزراء وزیراعظم کی ہدایت پر ایوان میں پہنچے۔

 

امن و امان کے حوالے سے پالیسی بیان دیتے ہوئے وزیر مملکت شہریار آفریدی نے ایوان کو بتایا کہ نئے پاکستان میں کسی کے خون کے بدلے مذاکرات نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ املاک کو نقصان پہنچانے والوں کو چھوڑا نہیں جائے گا۔ شہریار آفریدی نے کہا کہ املاک کو نقصان پہنچانے والوں کی فوٹیج ایف آئی اے کے سائبر کرائمز ونگ نے حاصل کر لی ہیں۔غیرملکی قرضوں کے حوالے سینیٹر میر حاصل بزنجو نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ مہنگائی کے طوفان نے غریب عوام کو پیس کر رکھ دیا ہے۔

 

میرحاصل بزنجو نے کہا کہ وزیر خزانہ نے دعوی کیا تھا کہ غیر ملکی قرضوں پر ایوان کو اعتماد میں لیا جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ سینیٹر عثمان کاکڑ نے حکومت کی خارجہ پالسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہماری خارجہ پالیسی کھبی یورپ کبھی امریکہ اور اب چین کے تابع ہے۔اجلاس میں کورم کی نشاندہی کی گئی، کورم پورا نہ ہونے پر سینیٹ کا اجلاس غیر معینہ مدت کےلئے ملتوی کردیا گیا۔

عطاء سبحانی  1 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں