نیشنل ایکشن پلان پر مؤثر عملدرآمد کیلئے حکومت کا پارلیمانی جماعتوں سے مشاورت کا فیصلہ

اسلام آباد (پبلک نیوز) حکومت نے نیشنل ایکشن پلان پرموثر عملدرآمد کے لیے پارلیمانی جماعتوں سے مشاورت کا فیصلہ کر لیا۔ 28 مارچ کو مشاورتی کانفرنس طلب کر لی گئی ۔ وزیرخارجہ  شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر حقیقی عملدرآمد پاکستانی عوام کے طویل المدتی مفاد میں ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کی ہدایت پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی  نے  پارلیمانی جماعتوں سے مشاورت کا فیصلہ کیا۔ اس سلسلہ میں پارلیمانی جماعتوں کے قائدین کو خطوط ارسال کر دیئے گئے ہیں۔ مشاورتی کانفرنس 28 مارچ کو شام 4 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہو گی۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ اے پی ایس کے المناک سانحہ کے بعد دسمبر 2014ء میں نیشنل ایکشن پلان مرتب ہوا۔

 نیشنل ایکشن پلان تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت، قومی اتفاق رائے کا مظہر ہے۔ خارجہ پالیسی کی مختلف جہات نیشنل ایکشن پلان کا حصہ ہیں۔ پاک سرزمین دہشت گردی کے خلاف استعمال نہ ہونے دینا بھی نیشنل ایکشن پلان میں شامل ہے۔

اقوام متحدہ کی پابندیوں سے متعلق ذمہ داریوں کو نبھانا پلان کا حصہ ہے۔ دہشتگردی کی مالی معاونت کی روک تھام بھی قومی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔

وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ انسداد دہشتگردی  کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو کانفرنس میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں۔ قومی حکمت عملی پر تیزی سے عملدرآمد کے لیے مشاورت اہم ہے۔ یہ ہمارے قومی عزم کا تسلسل اور دنیا کے سامنے حقائق کو اجاگر کرے گی۔

احمد علی کیف  1 ماه پہلے

متعلقہ خبریں