نئے مالی سال کی آمد کے ساتھ ہی پنجاب پر بھاری ذمہ داری عائد

لاہور(ادریس شیخ) پنجاب حکومت کی جانب سے نئے بجٹ میں پنجاب میں نئے ٹیکسز لگانے کی تیاریاں مکمل کر لی گئیں، ٹیکس وصولی کے اہداف میں 3کھرب30 کا اضافہ متوقع، آئندہ مالی سال میں 21 کھرب 61 ارب وصولی کا ہدف دیا جائے گا۔

 

پنجاب حکومت کا آمدن کا گزشتہ برس ہدف 18 کھرب 31 ارب تھا، جس میں اضافہ کیا گیا ہے۔ صوبائی محکموں سے آمدن کا ہدف میں ایک کھرب 4 ارب کا اضافہ تجویز کیا گیا ہے، پنجاب حکومت محکموں کے ذریعے 3کھرب 68 ارب وصول کرنے کی ہدایت کی جائے گی، محکمہ خزانہ پنجاب کو 43 ارب، محکمہ معدنیات 10 ارب اور محکمہ پولیس کی مدد سے 4 ارب 72 کروڑ اور محکمہ انہار کو 2 ارب وصول کرنے کے احکامات دیے جائیں گے۔

پنجاب حکومت نے نئے بجٹ میں پنجاب میں نئے ٹیکسز لگانے کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں، ذرائع کے مطابق فیول کے استعمال پر ایک فیصد کاربن ٹیکس اور زرعی ٹیکس اور آبیانہ کی شرح بڑھانے کی تجویز دی گئی، کسانوں پر آبیانہ کی مد میں100 فیصد ٹیکس بڑھانے، کسانوں سے فی ایکٹر کے حساب سے ٹیکس میں سو فیصد اضافہ کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

 

ذرائع محکمہ خزانہ پنجاب کے مطابق بیوٹی پارلرز اور ہیر ڈریسرز پر بھی ٹیکس لگانے کی تجویز دی گئی ہے، موٹر ویز، ہائی ویز، کمرشل بلڈنگز اور ریستورانوں پر بھی پراپرٹی ٹیکس عائد کیا جائے گا اور پراپرٹی ٹیکس میں پچاس فیصد اضافے اور لگژری ہاؤسز پر بھی مزید ٹیکسز کی تجویز زیر غور ہے۔ لینڈ ریونیو، ٹرانسپورٹ، روٹ پرمٹ، گاڑی کی فٹنس، سینما گھروں پر ٹیکس، متبادل توانائی پیدا کرنے والے آلات پر بھی ٹیکس بڑھانے کی تجویز صوبائی کابینہ کو ارسال کر دی گئی ہے۔

عطاء سبحانی  1 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں