حکومت سے سوال کیا جائے تو جواب میں گالی دی جاتی ہے: قمر الزمان کائرہ

لاہور (پبلک نیوز) پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما قمر الزمان کائرہ نے کہا ہے کہ آج کے حکمرانوں کو اندازہ نہیں کہ جمہوری عمل کتنی جانیں قربان کرکے حاصل ہوا۔

صوبائی دارالحکومت میں پریس کانفرنس میں 27 دسمبر کو بے نظیر بھٹو کی شہادت کے حوالے سے جلسے میں شمولیت کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔ صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہمیں احساس ہے کہ جب جمہوری عمل ڈی ریل ہوتا ہے تو کتنی جانیں قربان کرنا پڑتی ہیں۔ یہ رسم ہو چلی ہے کہ حکومت سے جو سوال کیا جاتا ہے جواب میں گالی دی جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ سو روز ہم نے یا میڈیا نے نہیں ہدف مقرر کیا۔ موجودہ حکومت جنوبی پنجاب صوبہ ہو یا کوئی بھی ہدف ہر معاملے میں فیل ہوئی۔

انھوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے بھٹو صاحب سے لیکر آج تک کل 15 برس بھی حکومت نہیں کی۔ ہماری قیادت کے خلاف احتساب ہوا ہم نے کبھی سوال نہیں پوچھا۔ آپ اور آپکے اتحادیوں کے خلاف بھی مقدمات ہیں۔ لوگوں کے خلاف تفتیش کے دوران گرفتاریاں ہورہی ہیں مگر وزراء کے خلاف ایسا نہیں ہورہا۔ اسپیکر پنجاب اسمبلی کے خلاف بھی مقدمات ہیں۔ 

ان کا کہنا تھا کہ زرداری صاحب نے اگر الیکشن کی کوئی بات کی ہے تو کیا اسمیں کسی کو کوئی شک ہے کہ الیکشن جعلی ہوئے ہیں۔ ہم نے جوڈیشل ایکٹوزم بھی بہت دیکھ لیا۔ ہم نے افتخار چودھری کا زمانہ بھی دیکھا اور اب بھی دیکھ رہے ہیں۔ ہم آئین کے اندر رہ کر کام کرنے کی بات کررہے ہیں تو کونسا جرم کررہے ہیں۔

رہنما پیپلز پارٹی نے بتایا کہ برطانیہ میں کیا بریگزٹ کی بات نہیں ہورہی۔ زرداری صاحب یہی کہتے ہیں کہ جن کا جو کام ہے انہیں ہی کرنے دیں۔ عدالت ہر کام کا سو مو ٹو لیتی ہے مگر عدالت کے جو اپنے کام التواء کا شکار ہیں ان پر کیا ہم انہیں سوال نہ کریں۔ پچھلے دنوں گجرانوالہ اور کئی ڈویژنز میں عدالتیں بند رہیں۔

انھوں نے واضح کیا کہ اگر ہم یہ کہتے ہیں ہمیں اٹھارویں ترمیم کی سزا دی جارہی ہے تو کونسا غلط کررہے ہیں۔ وزراء روزانہ اٹھاریں ترمیم پر حملہ آور ہوتے ہیں اور سوال کرتے ہیں۔ دوسروں کو برا کہنا بڑا آسان ہے۔ ہمیں کوئی گھبراہٹ اور غصہ نہیں ہے۔ بی بی شہید بھی یہی کہتی تھیں کہ ادارے اپنی حدود میں رہ کر کام کریں۔

قمرالزمان کائرہ نے وضاحت کی کہ زرداری صاحب بھی یہی کہتے ہیں اور بلاول بھٹو بھی یہی کہہ رہے ہیں۔ اگر یہ سب کہنا غلط ہے تو ہم یہ غلطی کرتے رہیں گے۔ چیف جسٹس کا کیا کام ہے کہ وہ پاور ہاؤسز کا جائزہ لیں۔ احتساب کریں، کس نے روکا ہے۔ کسی کو این آر او کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم سوال کرکے کیا گناہ کررہے ہیں۔

وزیر اعظم کو مشورہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ خان صاحب اینٹی کرپشن کا کام بہت ضروری ہے اسے ضرور کیجئے۔ عدلیہ اور فوج قابل احترام ہیں مگر پارلیمان بھی قابل احترام ہے جو ان اداروں کی ماں ہے۔ ہم پارلیمان کی عزت کی بات کرکے یہ غلط کررہے ہیں۔ صحافیوں اور اخباری مزدوروں پر ظلم ہورہا ہے۔ سرمایہ داری نظام میں مزدوروں پر ظلم ہورہا ہے۔

پارٹی رہنما نے بتایا کہ سیٹھوں سے کہتا ہوں برے وقت کو برداشت کریں۔ ہم کسی سے تصادم نہیں چاہتے۔ گرفتاریاں اس سے پہلے بھی ہوئیں، زرداری صاحب کو پہلے بھی ان ہی عدالتوں نے کرپشن کیسز میں گرفتار کیا اور ان ہی عدالتوں نے بری بھی کیا۔

انھوں نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو نے پارٹی سنبھالی تو ان پر کیسز بن رہے ہیں۔ اس وقت کے مقدمات ہیں جب وہ کم سن تھے۔ یہ عمل درست نہیں،جس نے بھی گڑھا کھودا اوہ خود ہی گرا ہے۔ ہم این آر او نہیں مانگ رہے، نہ ہی آپ دینے کی پوزیشن میں ہیں۔

ایک اور وضاحت دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وزیراعظم خود کہہ رہا ہے قبل از وقت انتخابات ہو سکتے ہیں۔ ہم تو چاہتے ہیں کہ حکومت مدت پوری کرے۔ عدالتی احتساب سے عوامی احتساب بڑا ہوتا ہے،عوامی احتساب سے ہی حالات بہتر ہوں گے۔ ہم نے نیب کو درست کرنا چاہا تھا مگر ہمارے پاس اکثریت نہیں تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے اوپر بے بنیاد مقدمات قائم کئے جارہے ہیں جن کی ہم مذمت کرتے ہیں۔ سرگودھا میں ہمارے ورکر پر ایف آئی آر درج کی گئی جس پر لکھا ہے کہ ملزم نے بے نظیر گراؤنڈ میں 2001 میں اپنی تختی لگائی۔ ہم جیلوں میں جانے سے ڈرتے نہیں ہیں۔ جیل میں جانا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ ہم تو کہتے ہیں ہمارے اوپر الزام تو صحیح لگائیں۔

احمد علی کیف  5 ماه پہلے

متعلقہ خبریں