حکومت جنوبی پنجاب صوبہ کیلئے قانون سازی شروع کرے، ساتھ دیں گے: قمر الزمان قائرہ

لاہور (پبلک نیوز) پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قمر الزمان قائرہ نے کہا ہے کہ مرغیاں دینے کا منصوبہ پہلے بھی پنجاب اور سندھ میں چل رہا تھا۔ بے نظیر پروگرام کے پی کے میں نقل کیا گیا ہے جو پیپلز پارٹی نے شروع کیا۔ جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کے لیے قانون سازی شروع کریں ہم حکومت کا ساتھ دیں گے۔

پیپلزپارٹی کے رہنماوں قمر الزمان قائرہ کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے دن کے حوالے سے 27 دسمبر کو مختلف اضلاع میں تقریب کا انعقاد کیا جائے گا۔ حکومت وقت نے سو دن کی تقریب میں جو گفتگو کی وزیر خزانہ کے کلیمز جعلی نکلے۔ وزیر خزانہ نے استعفی نہیں دیا تو کچھ تو ہوا ہے جو اتنی بڑی بات باہر نکلی کہیں نہ کہیں اختلاف تو ہیں۔ حکومت ملک اور سیاست کا نقصان کر رہے ہیں اور اس پر ڈٹ کر کھڑے ہیں۔

قمر الزمان قائرہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے دو سو ارب ڈالرز والا دعوی جھوٹا نکلا، جو دعوی کیا وہی جھوٹا نکلا۔ ڈیم کی تعمیر کے لیے اربوں ڈالر آنے تھے وہ کہاں گئے وہ دعوی بھی جھوٹا نکلا۔ نیب اگر آزاد ادارہ ہے تو اس کے کام کے خدوخال کو حکومت نے بہتر کرنا ہے۔ ملک کے وزیر اعظم نے نیب کے حوالے سے بھی بے بسی کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعظم کہتے ہیں کہ ہم قانون سازی آرڈیننس کریں گے لیکن ان کو یہ پتہ ہونا چاہئے کہ آرڈیننس اسمبلیوں کی موجودگی نہ ہونے کی صورت میں ہوتا ہے۔

رہنما پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ ہمارے خلاف آئی جے آئی اور پٹریاٹ بنائی گئی فوج کو حکومتی فیصلوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے نہ کہ منشور کے ساتھ۔ وزیر اعظم عمران خان کے بیان پر فاج کو وضاحت کرنی چاہئیے۔ جن لوگوں کے بارے میں  دعوی ہے کہ وہ کرپٹ ہیں ان کے خلاف ثبوت اداروں کو کیوں  فراہم نہیں کئے۔ وزیر اعظم نے ثبوت فراہم نہیں کئے تو انہوں نے اپنی ذمہداری پوری نہیں کی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ حکمرانوں اربوں روپے کی دھاڑیاں لگا رہے ہیں۔ مرغیاں دینے کا منصوبہ پہلے بھی پنجاب اور سندھ میں چل رہا تھا۔ بے نظیر پروگرام کے پی کے میں نقل کیا گیا ہے جو پیپلز پارٹی نے شروع کیا۔ جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کے لیے قانون سازی شروع کریں ہم حکومت کا ساتھ دیں گے۔ عمران خان کے الزامات کی عمر اب صرف دو ماہ کی ہے عوام اب جھوٹوں پر یقین نہیں کرے گی۔ تحریک انصاف کی اپنی جماعت میں دراڑیں پڑنا شروع ہو گئی ہیں۔ نئے الیکشن کرانے کا نعرے اپنے ساتھیوں اور اتحادیوں کو ڈرانے کے لیے لگایا گیا ہے۔ خان صاحب کو جوڈیشری پر اعتراض اس لیے ہے کہ علیمہ خان کو نوٹس ہوا ہے ورنہ اور کوئی بات نہیں ہے۔

حارث افضل  2 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں