قندیل بلوچ قتل کیس کا فیصلہ سنا دیا گیا

 

ملتان (پبلک نیوز) ملتان کی ماڈل کورٹ نے ماڈل قندیل بلوچ قتل کیس کا فیصلہ سنا دیا ہے۔ بھائی محمد وسیم کو عمر قید اور مفتی عبدالقوی سمیت دیگر ملزمان کو بری کر دیا گیا ہے۔ کیس کا فیصلہ 3 سال 2 ماہ 10 دن گزرنے کے بعد جاری ہوا ہے۔

 

تفصیلات کے مطابق ماڈل قندیل بلوچ قتل کیس کا 38 ماہ بعد فیصلہ سنا دیا گیا۔ قتل کیس کا محفوظ فیصلہ ماڈل کورٹ کے جج عمران شفیع نے سنایا۔ عدالت نے قندیل بلوچ قتل کیس میں ملزم وسیم کو عمر قید کی سزا سنا دی۔ گرفتار ملزم وسیم کیس کا مرکزی ملزم اور مقتولہ قندیل کا بھائی ہے۔

 

قندیل بلوچ قتل کیس کا فیصلہ 3 سال 2 ماہ 10 دن گزرنے کے بعد جاری ہوا۔ عدالت نے مقدمہ کے دیگر 5 ملزمان کو شک کا فائدہ دے کر بری کر دیا۔ ملزمان میں مفتی عبدالقوی، اسلم شاہین، عبدالباسط، ظفر حسین اور حق نواز شامل تھے۔ کیس میں 35 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے۔ گواہوں کے بیانات پر جرح بھی کی گئی۔

واضح رہے کہ کیس کا ٹرائل 3 اگست 2019 کو ماڈل کورٹ میں منتقل ہوا تھا۔ مقدمہ میں نامزد ملزم وسیم پر ماڈل قندیل کو غیرت کے نام پر قتل کرنے کا الزام تھا جو ثابت ہو گیا۔ قتل کا مقدمہ 16 جولائی 2016 کو تھانہ مظفرآباد میں درج ہوا تھا۔ ماڈل عدالت نے روزانہ کی بنیاد پر کیس کی سماعت کی۔ قتل کیس میں ملزم وسیم پہلے دنوں سے ہی گرفتار اور جیل میں قید ہے۔ ماڈل کورٹ نے 17 گواہوں کی شہادتیں قلمبند کی۔

 

ماڈل کورٹ سے قبل سیشن کورٹس نے 18 گواہوں کی شہادتیں قلمبند کیں تھیں۔ مقدمہ کے ایک اور مفرور ملزم و مقتولہ کے بھائی عارف کے خلاف کوئی رپورٹ عدالت جمع نہیں ہوئی۔ پولیس نے 512 کے تحت ملزم عارف کے خلاف کوئی رپورٹ عدالت میں جمع نہیں کرائی۔ کیس کے گواہوں میں مقتولہ کے والد عظیم ماہڑہ، والدہ انور بی بی، کئی رشتے دار، ڈی ایس پی عطیہ جعفری، انسپکٹر الیاس حیدر، سب انسپکٹر نور اکبر، سب انسپکٹر کرم حسین، پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر غلام یٰسین اور موبائل سی ڈی آر رپورٹ کرنے والے فرانزک سائنٹسٹ بھی شامل تھے۔

احمد علی کیف  2 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں