قائد اعظم فلیگ اسٹاف ہاؤس سے قائد اعظم ریذیڈنسی تک کا سفر

کراچی (پبلک نیوز) قائد اعظم ہاؤس جہاں بابائے قوم نے اپنے بہتر مستقبل کے خواب دیکھے۔ بانی پاکستان کو ہم سے بچھڑے 70سال بیت چکے ہیں۔ مگر آج بھی قائد کی زات سے منسلک تمام چیزیں قائد اعظم ریذیڈنسی میں محفوظ ہیں۔

قیام پاکستان سے قبل 1943میں شاھراہ فیصل پر قائم فلیگ ھائوس 1 لاکھ 15ہزار روپے میں اس وقت کے میئر مسٹر سہراب سے خریدہ۔ 1943سے قیام پاکستان تک فلیگ ہاؤس اسٹاف روائل آرمی کے پاس رہا۔

قیام پاکستان کے بعد 1948میں قائد اعظم فلیگ اسٹاف ہاؤس کا نام قائد اعظم ہاؤس رکھ دیا گیا۔ جس کے بعد دہلی میں واقع قائد اعظم کی رہائشگاہ سے تمام سامان اور فرنیچر قائد اعظم ھائوس منتقل کردیا گیا۔

بابائے قوم کی رھائشگاہ میں داخل ہوتے ہی کامن روم میں قائد اور ان کی ہمشیرہ کی بیٹھک کی جگہ نمایاں ہے۔ کامن روم کے دائیں جانب محمد علی جناح کا وہ دفتر ہے جہاں امریکا کی جانب سے دیا گیا گولڈن ٹیلیفون ہے۔

عمارت کی دوسری منزل قائد کی آرام گاہ ہے،اور ان کی آرام گاہ کیساتھ ہی ڈرائننگ روم بھی بنایا گیا ہے۔ جہاں قائد اکثر اپنی سیاسی ملاقاتیں کیا کرتے تھے۔ ڈرائنگ روم کے بالکل سامنے ایک لانچ واقع ہے۔ جہاں قائد اور محترمہ فاطمہ جناح اکثر ساتھ ناشتہ کیا کرتے تھے۔ جبکہ قائد کے عقب میں ان کی ہمشیرہ کا کمرہ موجود ہے۔ جس میں وہ آرام فرمایا کرتی تھیں۔ جبکہ ان کی ڈریسنگ ٹیبل سے آج بھی ان کا عکس چھلکتا نظر آتا ہے۔

حارث افضل  3 ماه پہلے

متعلقہ خبریں