عثمان بردار ڈمی وزیر اعلیٰ، پنجاب کو بنی گالہ سے چلایا جا رہا ہے: رانا ثناءاللہ

اسلام آباد (پبلک نیوز) رہنماء مسلم لیگ ن رانا ثناءاللہ نے کہا ہے ناحق مارے جانے والے پاکستانیوں کے ساتھ ظلم ہے۔ ہم جے آئی ٹی ڈرامے کو مسترد کرتے ہیں۔ یہ وفاقی حکومت اور پارلیمان کے ساتھ سنگین مذاق ہے۔

 

قومی اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ کے رہنماء رانا ثناءاللہ کا کہنا تھا کہ تبدیلی سرکار نے کل جے آئی ٹی ڈرامہ کیا۔ ناحق مارے جانے والے پاکستانیوں کے ساتھ ظلم ہے۔ ہم جے آئی ٹی ڈرامے کو مسترد کرتے ہیں۔ یہ وفاقی حکومت اور پارلیمان کے ساتھ سنگین مذاق ہے۔ موقف ہے کہ مرنے والے معصوم تھے لیکن آپریشن سو فیصد درست تھا۔ یہ موقف معاشرتی شعور پر تھپڑ ہے۔

 

رانا ثناءاللہ کا کہنا تھا کہ کٹھ پتلی حکومت نے جے آئی ٹی ڈرامے سے ملزمان کو بچانے کی کوشش کی۔ اس ڈرامے سے ذمہ داران کو فائدہ پہنچنے کا احتمال ہے۔ وزراء نے کہا یہ چاروں دہشت گرد تھے۔ کہا گیا کہ موقع پر مزاحمت ہوئی۔ کہا گیا کہ موقع سے دو خودکش جیکٹس اور اسلحہ ملا۔ کہا گیا کہ دو افراد موٹرسائیکل پر بھاگ گئے۔ ریڈ بک کو سامنے لایا جائے جس میں کہا گیا ان کا نام تھا۔ ذیشان کو مارنے کے بعد 3 دن اس کا ناتہ دہشت گردوں سے جوڑنے کی کوشش کی گئی۔ وزیر قانون نے کہا ایک دن اور دیا جائے۔ دھوکا دیا جا رہا ہے آنکھوں میں دھول جھونکا جا رہا ہے۔

 

 

ایف آئی آر میں کسی ملزم کا نام نہیں۔ 19 تاریخ کو ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا تھا۔ نامعلوم افراد کی ایف آئی آر 20 تاریخ کو درج کی گئی۔ کہا جا رہا ہے کہ 72 گھنٹوں میں ایکشن لے لیا گیا۔ ماڈل ٹاون میں وزیراعلی شہباز نے وہاں موجود افسران کو ہٹا دیا تھا۔  ہم نے استعفیٰ دیا اور جے آئی ٹی میں بے گناہ ثابت ہونے کے بعد واپس عہدہ سنبھالا۔ 10 میں سے 6 لوگوں کو سر سے گولیاں لگیں اور ٹانگوں سے نکلیں۔ چھتوں پر کون تھا۔ طاہر القادری نے جے آئی ٹی کا بائیکاٹ کیا۔

 

عمران خان کہتے ہیں کہ پولیس مارے تو حکم اوپر سے آتا ہے۔ جس دن بے گناہ لوگوں کو مارا جا رہا تھا، تبدیلی سرکار کا وزیر اعلی میانوالی میں تھا۔ 1200 اہلکار عثمان بزدار کی حفاظت پر تھے۔ بنی گالہ سے پنجاب کو کنٹرول کیا جا رہا ہے۔ عثمان بزدار چیف ایگزیکٹو نہیں۔ وزیراعظم استعفی دیں بے گناہ ثابت ہوں تو دوبارہ عہدہ سنبھال لیں۔

حارث افضل  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں