2013ء میں ایل ڈی اے پلازہ میں لگنے والی آگ کے حقیقی حقائق سامنے آگئے

لاہور(ادریس شیخ) 2013ء میں ایل ڈی اے پلازہ میں لگنے والی آگ میں کون سے منصوبوں کا ریکارڈ جلا، حقائق سامنے آگئے، پنجاب حکومت نے میٹرو بس سمیت متعدد منصوبوں کے ریکارڈ جلنے کا اعتراف کر لیا۔ درجنوں منصوبوں میں کرپشن کا ریکارڈ جان بوجھ کر جلایا گیا۔

 

پنجاب حکومت نے 2013 میں ایل ڈی اے پلازہ میں لگنے والی آگ میں سرکاری ریکارڈ بھی نذر آتش ہونے کا اعتراف کر لیا، پنجاب حکومت کے مطابق ایل ڈی اے پلازہ کی آگ میں میٹرو بس اور کلمہ چوک انڈر پاس کا ریکارڈ جلایا گیا، پنجاب حکومت نے اربوں روپے کے اخراجات سے متعلق ریکارڈ بھی جلنے کی تصدیق کر دی، مبینہ کرپشن سے متعلق جانچ پڑتال کے لیے پنجاب حکومت سے ریکارڈ طلب کیا گیا۔ حکومت نے ریکارڈ جلنے کے باعث پیش کرنے سے معذرت کر لی۔

 

2013ء میں آتشزدگی کے وقت کرپشن الزامات میں گرفتار احد چیمہ ڈی جی ایل ڈی اے تعینات تھے۔ ایل ڈی اے پلازہ میں لگنے والی آگ کے دوران 23 سے زائد افراد جھلس کر جاں بحق ہو گئے تھے، ڈی سی او نسیم صادق نے آتشزدگی کو مشکوک قرار دیتے ہوئے انکوائری کی ہدایت کی تھی۔ ریسکیو نے بھی ایل ڈی اے پلازہ کی آگ میں نذر آتش ہونے والے ریکارڈ کو دو روز قبل ہی منتقل کیے جانے کی تصدیق کی تھی، ذرائع کے مطابق میٹرو بس سمیت درجنوں منصوبوں میں کرپشن کا ریکارڈ جان بوجھ کر جلایا گیا۔

عطاء سبحانی  4 ماه پہلے

متعلقہ خبریں