تازہ زیتون مارکیٹ میں نہ ملنے کی اصل وجہ جانیے

 

پبلک نیوز: تازہ زیتون ذائقے میں اس قدر برا ہوتا ہے کہ کوئی بھی اسے ایک دفعہ چکھنے کے بعد دوبارہ چکھنا بھی پسند نہ کرے۔ تازہ زیتون کو کھانے کے قابل بنانے کے لیے اسے نمکین پانی میں ڈبو کر یا اسے ابالنے کے مرحلے سے گزارا جاتا ہے، اس عمل میں کئی ہفتے لگ جاتے ہیں۔

 

تفصیلات کے مطابق پہلی وجہ خصوصاً ان ممالک کے لیے جہاں زیتون کاشت نہیں کیے جاتے اور نہ ہی وہاں کی آب و ہوا زیتون کی پیداوار کے لیے موافق ہے۔ وہاں تازہ زیتون کی بجائے ڈبے میں بند زیتون پر ہی اکتفا کرنا پڑتا ہے۔

 

امریکن کیمیکل سوسائٹی کے مطابق تازہ زیتون ذائقے میں اس قدر برا ہوتا ہے کہ کوئی بھی اسے ایک دفعہ چکھنے کے بعد دوبارہ چکھنا بھی پسند نہ کرے۔ اسی بناء پر دکانوں پر اسے رکھا نہیں جاتا۔ پھل میں 'اولی یروپین' نامی عنصر پایا جاتا ہے جو ذائقہ بدترین بناتا ہے، تازہ زیتون میں یہ عنصر 14 فیصد تک ہوتا ہے۔ تازہ زیتون کو کھانے کے قابل بنانے کے لیے اسے نمکین پانی میں ڈبو کر یا اسے ابالنے کے مرحلے سے گزارا جاتا ہے، اس عمل میں کئی ہفتے لگ جاتے ہیں۔

 

تیسرا طریقہ کار کیمکل ہے جس میں کم وقت لگتا ہے لیکن اس سے جار میں زیتوں زیادہ عرصے تک محفوظ رہ پاتا ہے۔ زیتون سے کیمیکل مکمل طور پر صاف کر لینے کے بعد اسے شیشے کی بوتلوں میں محفوظ کر لیا جاتا ہے۔

احمد علی کیف  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں