سکولوں کو خلاف ضابطہ این جی اوز کو دینے کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع

لاہور (پبلک نیوز) سابق حکومت کی طرف سے سرکاری سکولوں کو خلاف ضابطہ این جی اوز کو دینے کی تحقیقات کے مطالبے کی قرارداد تحریک انصاف کی جانب سے پنجاب اسمبلی میں جمع کر دی گئی۔

 

سابق حکومت کی طرف سے سرکاری سکولوں کو خلاف ضابطہ این جی اوز کو دینے کی تحقیقات کے مطالبے کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کر دی گئی۔ قرارداد تحریک انصاف کی رکن پنجاب اسمبلی سعدیہ سہیل رانا کی جانب سے جمع کرائی گئی۔

 

قرارداد کے متن کے مطابق سابق دورِ حکومت میں محکمہ تعلیم پنجاب کے چار ہزار سکولوں کو من چاہی این جی اوز کو 550 کے بجائے 750 روپے فی بچہ دینے کا انکشاف ہوا ہے۔ مسلم لیگ ن کے سابق ادوار بلخصوص خادمِ اعلیٰ پنجاب کے دور میں پڑھو پنجاب بڑھو پنجاب، کے نام پر قوم کے مستقبل سے کھلواڑ کیا گیا۔ کہنے کو حکومت ہر سال تعلیم اور صحت کے بجٹ میں اضافہ کرتی رہی۔

 

یہ اضافہ صوبہ میں مجموعی طور پر معیار تعلیم بہتر بنانے کی بجائے چہیتوں کو نوازنے کے لیے اور نمائشی اقدامات پر خرچ کیا جاتا رہا۔ سابق حکومت نے سرکاری سکولوں کی کارکردگی کو بہتر کرنے کی بجائے تعلیم کو پرائیویٹائز کر کے ذمہ داری سے ہی جان چھڑانے کی کوشش کی۔

 

قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ سرکاری سکولوں کو نجی افراد اور این جی اوز میں بندربانٹ کر کے سرکاری خزانے سے ہر ماہ خطیر رقم لٹانے کی تحقیقات کی جائے۔ اس سارے معاملے اور ذمہ داران کے خلاف کاروائی کی جائے۔

حارث افضل  5 ماه پہلے

متعلقہ خبریں