ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے2018کی کارکردگی رپورٹ جاری کردی

اسلام آباد (پبلک نیوز) ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان نے 2018 کی کارکردگی رپورٹ جاری کر دی۔ سال 2018 میں جعلی ادوایات کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کیے گئے۔

 

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان نے 2018 کی کارکردگی کے اعداد وشمار جاری کر دیے۔ ترجمان کے مطابق ڈریپ کے لائسنسنگ ڈویژن نے 2018 میں 22 نئے مینو فیکچرنگ لائسنسز کا اجراء کیا، جبکہ 113 نئے اضافی سیکشن لگانے کی اجازت دی گئی۔ 89 کمپنیوں کے لائسنس کی تجدید کی گئی اور 87 نئی کمپنیوں کے لیے تجویز کردہ جگہ کی منظوری دی گئی۔

 

ترجمان کے مطابق سال 2018 میں 130 کمپنیوں کے مجوزہ نقشہ جات پاس کیے گئے اور رجسٹریشن بورڈ نے 6440 ادویات کی درخواستوں کی منظوری دی گئی جبکہ 200 ایسی درخواستوں کو مسترد کیا گیا جو کہ مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اترتی تھی۔

 

ڈریپ نے ایک سال میں 9987 ڈرگ امپورٹ لائسنس جاری کیے۔ 5329 ادویات کی ایکسپورٹ کے این او سی بھی جاری کیے گئے۔ پاکستان میں سال 2018 میں فارماسیوٹیکل کی ایکسپورٹ 212 ملین امریکی ڈالر تھی۔

 

سنٹرل ڈرگ لیبارٹری نے کل اکتالیس ہزار چار سو پینتیس ادویات کے نمونے ٹیسٹ کیے، جن میں سے محض 0.098 فیصد ادویات جعلی نکلی اور 1.18 فیصد غیررجسٹرڈ نکلی۔ 92.61 فی صد ادویات اپنے معیار پر اتریں۔

حارث افضل  1 ماه پہلے

متعلقہ خبریں