پنجاب اسمبلی کے 7 ویں سیشن کی رپورٹ جاری کر دی گئی

لاہور(شاکر محمود اعوان) پنجاب اسمبلی کے سیشن کی رپورٹ جاری، اسمبلی کا ہر سیشن 1 گھنٹہ 27 منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا، اپوزیشن لیڈرنے 2 دفعہ جبکہ گورنمنٹ نے 26 میں سے 11 تحریک التواء اور 10 توجہ دلاؤنوٹس پرجواب دیا۔

 

پنجاب اسمبلی کے 20 فروری سے 14 مارچ تک سیشنز میں کیا ہوا؟ کون آیا؟ پبلک نیوز نے سب کھوج لگا لیا۔ پنجاب اسمبلی کے ساتویں سیشن میں 70 فیصد ایجنڈا زیر بحث رہا، ہاؤس نے سیلری، اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور وزیر اعلیٰ کی مراعات کا بل پاس کیا۔ پوانٹس آف آڈر پر 5 گھنٹے 31 منٹ صرف کیے گیے۔ وزیراعلی پنجاب سردار، عثمان بزدار پورے سیشن میں غیر حاضر رہے اور اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز صرف 2 مرتبہ ہاؤس کا حصہ بنے۔

 

رپورٹ کے مطابق گورنمنٹ نے 26 میں سے 11 تحریک التواء اور10 توجہ دلاؤنوٹس پر جواب دیا۔ اسمبلی سیشنز میں 7 بار کورم کی نشاندہی کی گئی 3 دفعہ تحریک التواء، 2 دفعہ کورم معطل اور 2 مرتبہ قورم پورا پایا گیا۔ 370میں سے 236 ممبران اسمبلی نے ہاؤس کی کاروائی میں شرکت نہیں کی جبکہ 134افراد شامل ہوئے جن میں سے 40 خواتین شامل ہیں۔

 

68ممبران اسمبلی پی ایم ایل این 57 پی ٹی آئی 4 پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ق کے 4 افراد شامل تھے۔ رپورٹ کے مطابق 125 پی ٹی آئی، 97 پی ایم ایل این 6 ق لیگ 3 پیپلز پارٹی اور 5 آزاد افراد سیشن میں شامل نہیں ہوئے، سیشن کے دوران 5 واک آؤٹ ہوئے، سب سے نمایاں احتجاج ہندو برادری پر نازیبا ریمارکس کا تھا۔

عطاء سبحانی  1 ماه پہلے

متعلقہ خبریں