"پاکستان میں 6سے 23ماہ تک کے 85فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہوتے ہیں"

پاکستان میں بیشتر بچے غذائی قلت کے بدترین شکار ہوتے ہیں۔ قومی ادارہ صحت اور برطانوی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی نے رپورٹ جاری کر دی۔ 6 ماہ سے23 ماہ تک کےصرف 15 فیصد بچوں کو غذائی سہولیات میسر ہیں۔85فیصد بچے غذائی قلت کاشکار بنتے ہیں۔

وزارت قومی صحت اور برطانوی ادارے ڈی ایف آئی ڈی نے پاکستان میں بچوں کی غذائی صورتحال پر رپورٹ این سی ایف اے جاری کر دی۔ تحقیقی رپورٹ کے مطابق  پاکستان میں معیاری خوراک پر پلنے والے بچوں کی تعداد خطرناک حد تک کم ہوگئی ہے۔ پاکستان میں 6 ماہ سے 23 ماہ تک کے صرف 15 فیصد بچے معیار ی خوراک استعمال کرپاتے ہیں جبکہ چھ ماہ سے 23 ماہ کے 85 فیصد بچے معیاری اور مطلوبہ اور توانا خوراک نہیں لے پاتے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں  6 ماہ سے 23 ماہ  کے بچوں میں خوراک کی کمی نشوونما میں کمی کا سب سے بڑا سبب ہے۔ والدین یا خاندان بچوں کی نشوونما کے لئے درکار ضروری خوراک کے بارے میں بھی لاعلم ہیں۔۔

یونیسف کے ماہر خوراک رُوتھ لاؤسن کا کہنا ہے کہ پاکستان  کے غریب ترین بچے ہماری توجہ کا خاص مرکز ہیں جبکہ ایسے بچے ناقص غذا  کے  منفی اثرات کا  اپنے بچپن  سے لے کر پوری زندگی تک  شکار رہتے ہیں۔ 

احمد علی کیف  1 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں