ایران کے تیل، شپنگ اورمالیاتی شعبے پر پابندیاں

پبلک نیوز: امریکا اور ایران میں کشیدگی مزید بڑھنے لگی۔ ایران کے تیل، شپنگ، شپ بلڈنگ اور مالیاتی شعبے پر پابندیاں کل سے نافذالعمل ہوں گی۔ ایرانی صدر کا کہنا ہے کہ پابندیوں کے باوجود ایران دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

ایران پر دوسرے مرحلے میں امریکی پابندیوں کا اطلاق کل سے ہوگا۔ پابندیوں کے اطلاق کے بعد ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والی 700 سے زائد شخصیات ہوائی و بحری جہاز، بڑے بینک، تیل ایکسپوٹرز اور شپنگ کمپنیاں پابندیوں کی زد میں آئیں گی۔

سوئفٹ نیٹ ورک سے رابطہ منقطع ہونے کی صورت میں ایرانی کمپنیاں عالمی مالیاتی نظام سے مکمل طور پر کٹ جائیں گی۔ نئی پالیسی کے تحت عارضی طور پر بھارت، جاپان، جنوبی کوریا، ترکی اور اٹلی سمیت 8 ممالک کو ایران سے تیل خریدنے کی اجازت ہوگی۔

اس سے قبل پہلے مرحلے میں 7 اگست کو ایران کی امریکی ڈالر تک رسائی محدود، ایرانی سونے، قیمتی دھات، کارپٹ، خوردنی اشیاء کی برآمد اور آٹوسیکٹر پر پابندی لگائی گئی تھی۔

دوسری جانب ایرانی صدر حسن روحانی کا کہنا ہے کہ پابندیوں کے باوجود ایران دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ کہتے ہیں 40 سال کی محاذآرائی میں امریکا کو ہمیشہ شکست ہوئی، اب کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

حارث افضل  2 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں