گھبرانا نہیں، مینڈک کے استعمال کی افواہیں جھوٹی

 

لاہور (پبلک نیوز) سوشل میڈیا پر کھانوں میں مینڈک کے استعمال کی افواہیں جھوٹی نکلیں ہیں۔ مردہ مینڈک پکوانوں کے لیے لاہور سمگل نہیں کیے جا رہے تھے بلکہ انھیں میڈیکل طلبہ کے تجربے کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔

 

تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر کھانوں میں مینڈک کے استعمال کی افواہیں جھوٹی نکلیں۔ پولیس کی تفتیشی رپورٹ، کالج کا ڈیمانڈ لیٹر اور فوڈ اتھارٹی کا اجازت نامہ پبلک نیوز نے حاصل کر لیا۔ مینڈک سپلائی کرنے والے ملزم مظہر مسیح نے پولیس کو بیان دیا کہ وہ 110 مینڈک بلٹی کروانے کے لیے لے کر جا رہا تھا تو راستے میں پولیس نے پکڑ لیا۔

 

مظہرمسیح  کا کہنا تھا کہ وہ ہر 6 ماہ میں مینڈک بلٹی کرواتا ہے جنہیں روالپنڈی کالج کے میڈیکل طلبہ تجربات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ پبلک نیوز کو راولپنڈی کے نجی کالج کا لیٹر اور پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جانب سے جاری سرٹیفکیٹ کی کاپی بھی موصول ہوئی۔

 

واضح رہے کہ اتوار کی رات پولیس کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ لاہور کے داخلی مقام پر 5 من زندہ اور مردہ مینڈک برآمد کیے گیے جس سے شہر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی۔

 

احمد علی کیف  3 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں