'سانحہ ساہیوال میں نشانہ بننے والی گاڑی کافی عرصہ سے سی ٹی ڈی کے ریڈار پر تھی'

لاہور (پبلک نیوز) سی ٹی ڈی کے کالعدم داعش کے خلاف ٹارگٹڈ 'آپریشن ذوالفقار' کے حقائق سامنے آ گئے۔ سانحہ ساہیوال میں نشانہ بننے والی گاڑی کافی عرصہ سے سی ٹی ڈی ریڈار پر تھی۔ گاڑی کہاں کہاں گئی کس کس کے استعمال میں رہی، اہم حقائق سامنے آ گئے۔

 

ساہیوال واقعہ آپریشن ذوالفقار کی ہی ایک کڑی تھا۔ سی ٹی ڈی اور خفیہ ایجنسیز کی جانب سے 2017 میں کالعدم تنظیم داعش کے خلاف یہ آپریشن شروع کیا گیا اور پنجاب میں داعش کے ٹھکانوں کو ختم کیا گیا۔

اس دہشت گرد گروہ کا سرغنہ عبدالرحمان اور نائب امیر عدیل حفیظ تھے۔ دیگر میں عثمان ہارون، کاشف چھوٹو، رضوان اکرم، عمران ساقی، زبیر، شاہد جبار اور سہولت کار ذیشان شامل تھے۔

 

یہ گروہ بہت سی ہائی پروفائل دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث رہا۔ جن میں غیر ملکی وارن وانسٹائن کا اغوا اور قتل، بریگیڈیئر(ر) طاہر مسعود کا اسلام  آباد سے اغوا، سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کے بھتیجے انسپکٹر عمر مبین اور انسپکٹڑ یاسر کا قتل، اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی حیدر گیلانی کا اغوا  شامل ہیں۔

13 جنوری 2019، دہشت گرد گروہ کے نائب امیر عدیل حفیظ کو ساہیوال میں ہنڈا سٹی گاڑی رجسٹریشن نمبر ایل ای 7039 کے ساتھ النور ٹریولز کے قریب پارکنگ میں دیکھا گیا۔ اسی گاڑی کو 3 اپریل 2017 کو ملتان میں انسپکٹر عمر کو قتل کرنے سے پہلے بھی دیکھا گیا تھا۔

 

8اگست 2017 کو بھی یہی گاڑی انسپکٹر یاسر کو قتل کرنے میں بھی استعمال ہوئی۔ دہشت گرد عدیل حفیظ اور عثمان ہارون کو فیصل آباد میں اسی ہنڈا سٹی گاڑی میں دیکھا گیا، دہشت گردوں کے خفیہ ٹھکانوں کی شناخت کے بعد 14، 15 جنوری 2019 کی درمیانی شب آپریشن کیا گیا، دہشت گرد عثمان نے پولیس پر فائرنگ کی۔ جوابی فائرنگ میں دونوں دہشت گرد مارے گئے۔

 

 

ہنڈا سٹی گاڑی میں سے 6 خودکش جیکٹسں، 24 ہینڈ گرنیڈ ،2 اے کے 47 رائفلز، آدھا کلو بارودی مواد اور بھاری تعداد میں گولیاں اور ڈیٹیونیٹر برآمد ہوئے۔ سیف سٹی کیمروں کی مدد سے ہنڈا سٹی گاڑی کی 15 جنوری سے پہلے نومبر 2018 تک کی نقل و حرکت ٹریس کی گئی۔

 

ٹول پلازوں کی فوٹیجز سے گاڑی کو دوباہ لاہور میں دیکھا گیا۔ 13 جنوری 2019، ہنڈا سٹی  لاہور میں کوٹ لکھپت کے علاقے کچا جیل روڈ پر دیکھی گئی۔ جس کے ساتھ سوزو کی آلٹو نمبر ایل ای 6683 بھی تھی۔ اسی سوزوکی آلٹو کو 4 بجے کے قریب کچا جیل روڈ پر دوبارہ دیکھا گیا۔

 

ان دوںوں گاڑیوں کی مشکوک نقل و حرکت کے نتیجے سفید آلٹو کی تفتیش شروع کی گئی۔ 17 جنوری 2019، یہی سفید رنگ کی سوزوکی آلٹو لاہور میں چونگی امر سدھو کی ایک تنگ گلی میں کھڑی پائی گئی۔ دہشت گرد عدیل حفیظ کی 12 جنوری کی سم لوکیشن بھی اسی جگہ کی ہے۔

 

19 جنوری 2019 کو اسی آلٹو گاڑی کی صبح ساڑھے نو بجے کے قریب مانگا منڈی سے جنوب کی جانب جاتے دیکھا گیا۔ سیف سٹی کیمروں کی فوٹیج میں گاڑؑی کی اگلی دو سیٹوں پر دو لوگوں کو بیٹھے دیکھا گیا۔ گاڑی کی پچھلی جانب بھاری سامان دیکھا گیا۔

 

فیصل آباد واقعہ کے بعد خدشہ تھا کہ شاید دہشت گرد گروہ کے بقیہ کارندے خودکش جیکٹس اور بارودی مواد کے ہمراہ پناہ گاہ بدلنے کی کوشش میں ہیں۔ حالات کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے سی ٹی ڈی کی تمام ٹیموں کو مطلع کیا گیا اس گاڑی کو روکا جائے، خودکش جیکٹوں اور ہتھیاروں کی ممکنہ موجودگی کے پیش نظر گاڑی کو روکتے ہوئے حفاظتی تدابیر استعمال کرنے کی بھی ہدایات کی گئیں۔

 

سی ٹی ڈی ٹیم نے گاڑی کو پہچاننے کے بعد اسے قومی شاہراہ پر قادر آباد کے قریب روکا جس کے نتیجے میں یہ سانحہ پیش آیا۔

دو دہشت گردوں عبدالرحمان اور کاشف کی لاہور سے گوجرانوالا روانگی کی اطلاع کے بعد سی ٹی ڈی اور حساس اداروں کی جانب سے جوائنٹ آپریشن کیا گیا۔  خودکش جیکٹ پہنے دہشت گردوں کو شیرانوالا گیٹ گوجرانوالا سے گرفتارکر کے گنجان آباد علاقے سے باہر لایا گیا جہاں انہیں خودکش جیکٹس سے پاک کیا گیا۔

 

گاڑی سوزوکی آلٹو رجسٹریشن نمبر ایل ای 6683 عدیل حفیظ کی ملکیت تھی اور اسے ذیشان جاوید استعمال کر رہا تھا۔ 13 جنوری کو لاہور سے ساہیوال سفر کی لوکیشن ہسٹری اور وائس میسجز کے مطابق سوزوکی آلٹو میں ذیشان اور ہنڈا سٹی میں عدیل حفیظ اورعثمان بیٹھے تھے۔ جبکہ ذیشان کے موبائل فون سے میسجز بھی ریکور کیے گئے۔ لاہور سے ساہیوال کا سفر صبح آٹھ بج کر چونتیس منٹ پر شروع ہوا، آٹھ بج کر پچپن منٹ پر آلٹو گاڑی مانگا منڈی اور ہنڈا سٹی کو پھول نگر بائی پاس پر دیکھا گیا۔ 9:18 پر آلٹو پھول نگر اور ہنڈا سٹی پتوکی پہنچی۔ 9:36 پر آلٹو پتوکی پہنچی۔ 10:08 پر آلٹو اوکاڑہ بائی پاس کراس کیا۔ 10:40 پر آلٹو کو یوسف والا اور ہنڈا سٹی کو سپیریئر کالج ساہیوال کے پاس دیکھا گیا۔

 

ذیشان کی دہشت گروہ کے سہولت کار کے کردار سے بھی پردہ اٹھ گیا۔ 28 اکتوبر 2018 اور 3 نومبر 2018 ذیشان کی موبائل فون چیٹ سامنے آئی جس میں اس نے خودکش بمبار کو نامعلوم ٹارگٹ کے خلاف استعمال ہونے اور اس کے حوصلے پر بات چیت کی گئی۔

 

ذیشان کی دہشت گروہ کے سہولت کار کے کردار سے پردہ اٹھانے کے لیے ذیشان کے موبائل سے ایک تصویر ملی، جس میں 15 جنوری کو فیصل آباد میں مارے جانے والے دہشت گرد عثمان کے ساتھ  ذیشان کی ایک تصویر ہے۔

 

فیصل آباد میں مارے  جانے والے دوسرے دہشت گرد عدیل حفیظ  سے برآمد کی گئی یو ایس بی سے ایک تصویر ملی جس میں دہشت گرد رضوان کو انسپکٹر عمر مبین کو قتل کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ اسی دہشت گرد رضوان کی تصویر اور وائس میسجز بھی ذیشان کے موبائل سے ریکور کی گئی۔

حارث افضل  6 ماه پہلے

متعلقہ خبریں