بھارتی عدالت نے سمجھوتا ایکسپریس دھماکا کیس کے ملزمان بری کردیئے

پبلک نیوز: بھارتی عدالت نے انصاف کا قتل کر دیا، سمجھوتہ ایکسپریس میں دھماکا کرنے اور آگ لگانے والے چار ملزموں کو کلین چٹ دے دی گئی، 42 پاکستانیوں کے قاتلوں کے خلاف بھارتی عدالت نے گواہوں کو سننے تک کی زحمت نہیں کی۔

 

بھارتی عدالت نے انصاف کا قتل کر دیا، سمجھوتہ ایکسپریس میں دھماکا کرنے اور آگ لگانے والے چار ملزموں کو کلین چٹ دے دی گئی، 42 پاکستانیوں کے قاتلوں کے خلاف بھارتی عدالت نے گواہوں کو سننے تک کی زحمت نہیں کی۔

تفصیلات کے مطابق عدالت نے مرکزی ملزم سوامی اسیم آنند سمیت دیگر ملزمان لوکیش شرما، کمل چوہان اور رجیندر چودھری کو بری کر کے ایک بار پھر ثابت کیا کہ نام نہاد سیکولر بھارت میں مسلمانوں کا قتل عام کوئی قابل گرفت جرم نہیں۔ بھارتی عدالتیں بھی ایسے واقعات میں انصاف کے نام پر ایجنڈا بانٹتی نظر آتی ہیں۔ سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کیس میں عدالت اور بھارتی حکومت نے سازش کے ذریعے اصل گواہوں کو عدالت میں پیش ہونے کا موقع ہی نہیں دیا۔

 

سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کے عینی شاہد اور اصل گواہ پاکستانی مسافر تھے جو دھماکے میں محفوظ رہے لیکن نہ تو بھارتی عدالت نے ان کو بلایا نہ ہی بھارتی حکومت نے ان کو کیس کی پیروی کے لیے ویزے جاری کیے ، پاکستانی گواہوں نے آخری وقت تک کوشش کی لیکن ہر بار ویزے سے انکار نے بھارت کا چہرہ بے نقاب کر دیا۔ عدالت میں انصاف کے نام پر جو کچھ ہوا اس پہ پاکستانی دفتر خارجہ نے بھی شدید مذمت کی۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ سمجھوتہ ایکسپریس سانحے میں جو بیالیس پاکستانی شہید ہوئے تھے، ان کے خاندانوں کو کیا جواب دیا جائے گا؟ یہ بھارت کا انتہائی قدم ہے۔

حارث افضل  3 ماه پہلے

متعلقہ خبریں