بے نامی جائیدادیں 60 دنوں کے اندر ضبط کرلی جائیں گی، شہزاد اکبر

 

اسلام آباد(پبلک نیوز) وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ بے نامی جائیدادیں 60 دنوں کے اندر ضبط کرلی جائیں گی۔ بے نامی جائیدادیں ملکیت کے ثبوت نہ ہونے پر ضبط ہوں گی۔ جائیدادیں بیچ کر رقم قومی خزانے میں جمع کرائی جائےگی۔

 

وفاقی وزیرعلی زیدی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ایک مافیا ہے جس نے بے نامی پیسہ رکھا ہوا ہے۔ ملک کا پیسہ منی لانڈرنگ سے باہر جاتا رہا ہے۔ سابق ادوار میں خزانے کو بے دردی سے لوٹا گیا۔ آج مشکل حالات کی وجہ سابق ادوار کی منی لانڈرنگ ہے۔

 

علی زیدی کا مزید کہنا تھا کہ 10 سال وزیراعلیٰ رہنے والا زلزلہ متاثرین فنڈز بھی کھا گیا۔ صورتحال یہ ہے کہ سمٹ بینک بھی بے نامی ہے۔ اگلی باری حدیبیہ کی ہے وہ بھی بے نامی ہے۔ ایک صاحب نے 16 پراپرٹیز پلی بارگین میں نیب کو دی ہیں۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ آصف زرداری کی بے نامی کمپنیوں کی تعداد 32 ہے۔ بے نامی جائیدادوں میں سیمنٹ فیکٹریاں اور شوگر ملز شامل ہیں۔ بے نامی جائیدادیں 60 دنوں کے اندر ضبط کرلی جائیں گی۔ بے نامی جائیدادیں ملکیت کے ثبوت نہ ہونے پر ضبط ہوں گی۔

 

شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ بے نامی جائیدادوں پر قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔ بے نامی جائیدادوں پر قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔ جائیدادیں بیچ کر رقم قومی خزانے میں جمع کرائی جائے گی۔ کراچی کے پوش علاقوں میں بھی بے نامی پلاٹ سامنے آئے ہیں۔

 

 

معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ کراچی کے پوش علاقوں میں بھی بے نامی پلاٹ سامنے آئے ہیں۔ 14 ہزار تنخواہ والا کمپیوٹر آپریٹراربوں روپے جائیداد کا مالک نکلا۔ ٹھٹھہ سیمنٹ سمیت مختلف کمپنیوں کے بے نامی شیئرز فریز کر دیئے۔ حسن، حسین نواز، سلمان شہباز، علی عمران اشتہاری مجرم ڈکلیئر ہوچکے۔

 

ان کا مزید کہنا تھا کہ ان تمام کے نام جائیدادوں اور بینک شیئرز کو بھی اٹیچ کیا جائے گا۔ انہوں نے چھوٹے سے مقدمے کے لیے سابق اٹارنی جنرل کو لندن بلالیا۔ ان افراد نے کچھ جرائم برطانیہ کی سرزمین پر بھی کیے ہیں۔

احمد علی کیف  1 ماه پہلے

متعلقہ خبریں