اپوزیشن عوام کو بطور ایندھن استعمال کرنا چاہتی ہے: فردوس عاشق

لاہور (پبلک نیوز) وزیر اعظم معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ آئندہ سال پوری کوش کی جائے گئی کہ ایک عید ہوں۔ کل خواہش کا اظہار کیا تھا کہ شہباز شریف واپس آئے تو اپوزیشن کے والی وارث بنے۔ حکومت اپوزیشن کے ساتھ مل کر عوامی مفادات کا حل نکالنے کی کوشش کرے گے۔

 

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی ہدایت پر پریس کلب آئی ہوں۔ ویچ ایوارڈ عید کے بعد صحافیوں کو دیئے جائے گے۔ نئی میڈیا پالیسی عید کے بعد متعارف کروائی جائی گی۔ میڈیا مالکان کو ایڈوائزر پالیسی دینے  کے ساتھ صحافی کی تنخوا کی شرط رکھی جائے گی۔ پریس کلب کی گرانٹ کو بحال کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم کے اصلاحات ایجنڈے پر عمل کروایا جا رہا ہے۔

 

فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ کرسی پر بیٹھنے والے شخص کو کام کرنا ہے۔ کام نہ کرنے والا شحص عمران خان کے نظریے کی نفی کر رہا ہے۔ ایسے الفاظ یا زہر نہیں اگلنا چاہیے جس سے صحافیوں کی ساکھ متاثر ہوں۔ برداشت اور صبر کا مظاہرہ پوری ٹیم کو کرنا چاہیے۔ عمران خان کے کھلاڑیوں کو راستے میں کانٹے نہیں بچھانے چاہیے۔ عمران خان تصادم کی سوچ نہیں رکھتے۔ فواد چودھری میرا بھائی ہے لیکن کسی کی زات پر بات نہیں کرنی چاہیے۔ فواد چودھری نے زاتی طور پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے غیر مناسب طریقہ اپنایا۔

ان کا کہنا تھا کہ میڈیا ورکرز کے جاب سیکورٹی کے حوالے سے زلفی بخاری کے ساتھ مل کر کام کیا جا رہا ہے۔  زیر سماعت کیس پر گفتگو کرنے کا پیمرا کی جانب سے پابندی لگائی ہوئی ہے۔ عدلیہ کی ججز کے خلاف ریفرنس کا فیصلہ کیا جا رہا ہے۔ عدلیہ کے حوالے سے شکایت اتی ہے تو اس کے حل کا فورم سپریم جوڈیشل کونسل ہے۔ سپریم کونسل میں جانا کون ساغیر آئینی اقدام ہے۔ عمران خان دو نہیں ایک پاکستان کا نعرہ لگا کر آیا ہے۔ ہمیں اپنی حدود کا خیال ہے آئین اور قانون سے باہر کوئی اقدام نہیں ہو گا۔ پاکستان میں مسائل کو حل کرنے کی بجائے کارپیٹ کے نیچے چھپایا جاتا رہا ہے۔

 

 

فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ فواد چودھری نو بال پر چھکے مارتا ہے۔ فواد کو چاہیے کے کریز میں رہ کر کھیلنے کی کوشش کرے۔ پیارے نواز شریف جب گھر تشریف لاتے ہے تو بیماری کی تشخص کے لیے وقت نہیں ملتا۔ ہلال کمیتی کے چئیرمین پورا سال لاپتہ رہتے ہے۔ عید کے چاند سے قبل مفتی منیب رونما ہوتے ہے۔ روزہ رکھنے کا عمل اور عید کا چاند نظر آنے کے لیے واضح لائحہ عمل کی ضرورت ہے۔ اجتہاد کو اسلام کے ساتھ مل کر آگے لے کر چلنا ہے۔ کے پی کے میں ہر سال تین عیدیں ہوتی تھی اس سال صوبے میں ایک عید ہوئی ہے۔ کے پی کے میں چاند کی شہادت کے بعد عید کا اعلان مثبت اقدام ہے۔

 

ان کا کہنا تھا کہ اگلے سال پوری کوش کی جائے گئی کہ ایک عید ہوں۔ کل خواہش کا اظہار کیا تھا کہ شہباز شریف واپس آئے تو اپوزیشن کے والی وارث بنے۔ حکومت کو اپوزیشن سے کوئی خطرہ نہیں۔ حکومت اپوزیشن کے ساتھ مل کر عوامی مفادات کا حل نکالنے کی کوشش کرے گے۔

حارث افضل  2 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں