نہ وہ سردیاں رہیں، نہ وہ محفلیں!

وقت بدل گیا، انداز بدل گئے۔ سردیاں رہیں ویسی نہ یار رہے۔ سردیوں کی محفلیں، گپیں باتیں، سب ماضی کا قصہ بن گئیں۔ سردیوں میں دھوپ سینکنے اور مل بیٹھنے کے دم توڑتے رواج اب کمیاب ہوتے جا رہے ہیں۔

وقت کی یاد ہے، کوئی کینو لایا ہے تو کوئی مونگ پھلی، کسی کے پاس ڈھیروں یادیں ہیں تو کوئی لے آیا نت نئی خبریں، یار سارے جو مل بیٹھے ہیں۔ دھوپ بھی سینکیں گے۔ گپ شپ بھی ہوگی۔

سردی کے دنوں میں خوب ہل چل رہتی تھی۔ دھوپ میں بیٹھ کر خشک میوہ جات اور دوستوں کی محفل موسم کا لطف دوبالا کر دیتا تھا۔ شدید سردی میں بھی جذبے اور تعلقات گرمجوشی سے بڑھتے ہی رہتے تھے۔

لیکن وقت بدلا تو حالات بدل گئے۔ تعلقات پر دوری کی ایسی برفباری ہو گئی کہ دوستی، یاری، محفلیں سب یخ بستہ ہوگیا۔ پھر نہ یار رہے نہ محفلیں۔

کہاں سے لاؤں میں سرد دنوں میں گرمجوشی

لہجے سرد، امیدیں ماند، تعلق وقت کے قیدی

کینو اور خشک میوہ جات اب بھی ہیں۔ ریڑھیاں بھری پڑی ہیں۔ لیکن شرطیں لگا کر محفلوں میں درجن درجن بھر کینو کھانے والے دوست اب فرصت نہیں پاتے۔ اب محفل لگتی ہے نا شرط، سردی کا موسم، الگ محفلوں کا بہانہ تھا۔ جو اب نہیں رہا۔ فرصت نکالی جائے تو اب بھی وقت گزرا نہیں۔

احمد علی کیف  1 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں