خادم اعلیٰ کا سستی روٹی کی فراہمی کا منصوبہ ناکام ہو گیا

لاہور(ادریس شیخ) سستی روٹی کی فراہمی کا منصوبہ ناکام ہو گیا، صفر کارکردگی پر 10 سال بعد سکیم بند سستی روٹی سکیم قومی خزانے پر اربوں روپے کا بوجھ ثابت ہوئی، مکینیکل تندور لینے والوں نے ایک بھی قسط جمع نہیں کروائی اور تندور بھی کرپشن کے جادو سے غائب ہو گئے۔

 

سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی جانب سے سستی روٹی کی فراہمی کیلئے سکیم رمضان المبارک 2008ء میں شروع کی گئی اور حنفی عباسی کو اس سکیم کا پہلا چیئرمین مقرر کیا گیا تھا، مگر سستی روٹی سکیم قومی خزانے پر بوجھ بننے پر بند کر دی گئی ہے۔ گوجرانوالہ، فیصل آباد، راولپنڈی کے ریجنل دفاتر سستی روٹی کے مکینیکل تندوروں کے قرضوں کی وصولی میں ناکام رہے، 10 سال تک سستی روٹی سکیم میں فیلڈ آفیسرز ہی تعینات نہیں کیے گئے۔

 

سستی روٹی سکیم کیلئے 11ارب 32 کروڑ 98 لاکھ روپے کی سبسڈی دی گئی، محکمہ خوراک نے ایک ارب 68 کروڑ 82 لاکھ روپے کا سبسڈائزڈ آٹا فراہم کیااربوں روپے ہڑپ کرانے والی سکیم آخری وقت تک محکمہ خوراک کا ایک کلرک چلاتا رہا۔ لسستی روٹی سکیم میں کبھی ڈی جی تعینات ہی نہ کیا گیا، مبینہ کرپشن سے متعلق 7 سال کے آڈٹ پیراز تاحال وضاحت سے محروم ہیں، شہباز شریف نے 296 مکینیکل تندوروں کے لیے 6 کروڑ 58لاکھ 50ہزار روپے خرچ کیے، مگر قومی خزانے کے اربوں روپے ضائع ہونے اور غیر سودمند ہونے پر اب سستی روٹی سکیم بند کر دی گئی ہے۔

 

عطاء سبحانی  3 ماه پہلے

متعلقہ خبریں