سپریم کورٹ نے ملک بھر میں پنچایتی اور جرگہ سسٹم کو غیرآئینی قرار دیدیا

اسلام آباد (پبلک نیوز) سپریم کورٹ نے ملک بھر میں پنچایتی اور جرگہ سسٹم کو غیرآئینی قرار دے دیا۔ خیبرپختوانخواہ میں رائج فاٹا ریگولیشن بھی 25ویں آئینی ترمیم کی روشنی میں غیرآئینی قرار۔

چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل بنچ نے تحریری فیصلہ جاری کیا۔ سپریم کورٹ نے قومی کمیشن برائے خواتین اور خیبرپختوانخواہ حکومت کی درخواستوں پر فیصلہ جاری کیا۔ پنچایتی اور جرگہ سسٹم آئین کے آرٹیکل چار، آٹھ، دس اے، پچیس اور 175 اے کی خلاف ورزی ہے۔

فیصلہ کے مطابق پنچایتی اور جرگہ سسٹم عالمی معاہدوں کی بھی خلاف ورزی ہے جن کا پاکستان حصہ ہے۔ پنجایت اور جرگہ کو دیوانی اور فوجداری عدالتوں کا اختیار استعمال کرنے کا اختیار نہیں۔ فریقین کی رضامندی سے قانون کے دائرے میں پنجایت اور جرگہ صرف ثالثی مقاصد کیلئے کیا جا سکتا ہے۔

قانون نافذ کرنے والے ادارے پنچایت اور جرگہ سسٹم کیخلاف کڑی نظر رکھیں۔ جرگہ کرنے اور جرگے کے سہولت کاروں کیخلاف بھی قانون نافذ کرنیوالے ادارے سخت قانونی کارروائی کریں۔ جرگہ کرنے اور اسکے سہولت کار ایک ہی جرم کے مرتکب ہیں۔

ریاست اور قانون نافذ کرنیوالے ادارے جرگہ اور پنچایت سسٹم کیخلاف آگاہی پھیلانے کیلئے اقدامات کریں۔ خیبرپختونخواہ کا حصہ بننے کے بعد فاٹا میں رائج ریگولیشنز امتیازی اور غیرآئینی ہیں۔ پشاور ہائیکورٹ کی طرف سے پہلے سے کالعدم فاٹا ریگولشینز آئین سے متصادم قرار دیئے جاتے ہیں۔

عدالت کی جانب سے خیبرپختوانخوا حکومت کو پنچایت اور جرگہ سسٹم کے مکمل خاتمہ کے لیے 6 ماہ کی مہلت دی گئی ہے۔ خیبرپختونخواہ حکومت 6 ماہ میں جرگہ سسٹم کے خاتمہ کے لیے ثالثی اور عدالتی نظام وضع کرے۔

احمد علی کیف  3 ماه پہلے

متعلقہ خبریں